”وہ بس میں ٹانگ پرٹانگ چڑھا کر بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک لوگ اس کے ۔۔۔؟؟“

دفتر سے شام پانچ بجے چھٹی کر کے وہ قریبی بس سٹا پ پر جا کھڑی ہوئی جہاں آج معمول سے کچھ زیادہ رش تھا۔ ہفتے کے آخری دن ہمیشہ بس میں سفر کرنا عذاب تھا۔ کیونکہ اگلے دن ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے کافی لوگ گھروں کو جاتےتھے۔ جیسے ہی بس آکر رکی لوگ سیٹ کے حصول کے لیے ٹوٹ پڑے ۔ وہ بھی لوگوں سے ٹکراتی اور برے برے منہ بناتی جیسے تیسے سوار ہو ہی گئی

اور خوش قسمتی سے اس کو جلد ہی ایک خالی سیٹ نظر آگئی جس پر قبضہ کرنے میں اس نےذرا دیر نا کی۔ تھوڑی دیر میں بس چلی تو کھلی کھڑکی سے تازہ ہو ا کے جھونکے اندر آنے لگے جس سے اس کی طبیعت کی بیزاری تھوڑی کم ہوئی تو وہ ٹانگ پر ٹا نگ چڑھا کر بیٹھ گئی اور پرس سے میگزین نکال کر وقت گزاری کرنے لگی۔

تھو ڑی دیر میں ٹکٹ بنانے والے کی آواز پراس نے سر اٹھا کر دیکھا تھوڑا آگے ایک سات آٹھ سال کا بچہ بڑے غور سے اس کی ٹانگوں کی طرف دیکھ رہاتھا۔ پہلے تو اس نے تو جہ نہیں دی اور ٹکٹ بنوا کر دوبارہ میگزین کی ورق گردانی کرنے لگی۔تو اس کو محسو س ہوا کہ وہ بچہ اب بھی مسلسل اس کی ٹانگوں کو گھو ر رہاتھا۔ وہ کچھ حیران سی ہوئی

بچے نے جب لڑکی کو اپنی طرف متوجہ پایا تو وہ شرما کر دوسری طرف دیکھنے لگا اچانک اس لڑکی کو محسوس ہوا۔ کہ سامنے والی سیٹوں پربیٹھے دو لڑکے بھی ناصرف اس کو مڑ مڑ کر دیکھ رہے ہیں بلکہ آپس میں کوئی بات کرکے ہنس بھی رہے ہیں تو وہ تھوڑی پریشان ہوگئی کہ ضرور کچھ تو گڑ بڑ ہے اچانک اس کو اپنے بیٹھنے کی پوزیشن کا خیال آیا۔

تو وہ چونک گئی کہیں اس کی شلوار نیچے سے نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا وہ سوچ کر ہی لرز گئی جلدی سے اس نے ٹانگ سے ٹانگ ہٹا لی اور پوزیشن بدل کر بیٹھ گئی مگر اب وہ اندر سے خاصی الجھن اور پریشان ہوچکی تھی۔ اگلے سٹا پ پر وہ دونوں لڑکے بس سے اتر گئے

مگر اترنے سے پہلے وہ ایک بار پھر اس کی ٹانگوں کی طرف دیکھ کر مسکرانا نہیں بھولے تھے ۔ اس لڑکی نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ وہ دونوں اتر گئے ورنہ تو وہ مزید پریشان ہوتی رہتی۔مگر وہ چھوٹا بچہ اب بھی بار بار مڑ کر اس کی طرف دیکھ رہا اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کہ ایسا کیا غلط ہوگیا ہے

آج ، حالانکہ وہ روزانہ ہی بس میں سفر کرتی تھی۔ مگر کبھی کسی نے اس کو ایسے معنی خیز نظروں سے نہیں دیکھا تھا۔ یا اللہ میں کیا کروں کہاں جاؤں ۔ وہ شدید پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکی تھی۔ وہ جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی

تاکہ جا کر دیکھے کہ اس کی شلوار کے ساتھ مسئلہ کیا ہے جو ہر کوئی اس طرف دیکھ کر مسکرارہا ہے۔ گھر کے دروازے پراتر کر اس نے رکشتے کا کرایہ ادا کیا اور سخت خراب موڈ لے کر جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی سامنے اس کی چھوٹی بہن کھڑی تھی

جس نے اس کو دیکھتے ہی دوپٹہ منہ میں لے کر ہنسنا شروع کردیا کہ کیا بکواس ہے۔ وہ زور سے دھاڑی ، سب ایسے کیوں ہنس رہے ہیں ۔ میری طرف دیکھ کر اس نے کندھے سے بیگ اتا ر کرغصے سے پھینکا اور کرسی پر گر سی گئی اس کی چھوٹی بہن نے ہنستے ہوئے کہا آپی ذرا نیچے تو دیکھو اپنے پاؤں کی طرف، اس نے غور سے نیچے پاؤں کی طرف دیکھا

تواس کی سفید شلوار کے پانچے سے سرخ رنگ کا ناڑا با ہر جھانک رہا تھا ۔ جو کہ سارے راستے اس کی جگ ہنسائی کاسبب بنا رہا اور وہ پتا نہیں کیا کیا سمجھتی رہی دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.