جہانگیر ترین جتنے لوگوں کو تحریک انصاف میں لائے وہ سب یوسف رضا گیلانی کوووٹ دیں گے ، گیلانی کو یقین ہے ترین انیں جتوا دیں گے ۔۔۔۔ یہ امکان کل سینیٹ کا نتیجہ آنے سے ن پہلے کس نے ظاہر کیا تھا؟

لاہور (ویب ڈیسک) یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کا الیکشن سینیٹ کا بڑا مقابلہ ہے۔ یہاں دونوں کے الیکشن پر بہت بات چیت ہو رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو میدان میں اتار کر ان کا سیاسی کیرئیر داؤ پر لگایا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصلہ سازوں کا خیال ہے کہ

اس فیصلے سے وہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے اور جنوب کارڈ کھیلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔نامور کالم نگار چوہدری محمد اکرم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ بھی خیال ہے کہ جہانگیر ترین کی موجودگی میں یوسف رضا گیلانی کو سپورٹ مل جائے گی کیونکہ دونوں کے اچھے تعلقات ہیں اور پی پی پی میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ وہ تمام آزاد اراکین جن کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ انہیں جہانگیر ترین پاکستان تحریکِ انصاف میں لے کر آئے تھے وہ سب یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیں گے۔ یہ ایک سوچ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار صرف کسی ایک شخصیت کے زیر اثر نہیں ہوتے نہ ہی وہ کسی ایک شخصیت کی وجہ سے کسی جماعت کا حصہ بنتے ہیں سب کو اپنا اپنا سیاسی مستقبل عزیز ہوتا ہے اور آنے والے اسی مستقبل کو دیکھ کر جیتنے والی جماعت کا حصہ بنتے ہیں۔ یوں پاکستان پیپلز پارٹی نے جمع تفریق میں غلطی کی ہے اور سینیٹ انتخابات کے نتائج ثابت کریں گے کہ ان سے کہاں کہاں غلطی ہوئی ہے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ والے ایسے ہی چلتے رہیں گے میاں نواز شریف نے بھی مقابلے کے بجائے بلامقابلہ کو ترجیح دی ہے۔ سینیٹ انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی ہو پی ڈی ایم جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پر چلتی رہے گی چونکہ انہوں نے آئندہ عام انتخابات تو اکٹھے لڑنا نہیں ہے یہ سب صرف اور صرف نیب سے بچنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے اس لیے سینیٹ میں کامیابی یا ناکامی سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ کس سیاسی جماعت کا کیا مستقبل ہے اس کے لیے اکتوبر یا نومبر تک حالات کسی حد تک واضح ہو جائیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.