عورت جب رات کو

بہتے پانی کے شور میں صداسکیوں کی چٹیں دہانے کا فن صرف عورت کے پاس ہے ۔مر دخوشی کا کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈ ہی لیتا ہے یہ عورت ہوتی ہے جو ایک ہی مرد کے پیچھے ضرور روز ساری زندگی گزار دیتی ہے ۔جو شخص خدا کو اپنے نفس کے لیے قبول کرے اس کو صاحب کہاں جاۓ گا اور خدا کو اپنے قلب کے لئے قبول کرنے والے کو صاحب جود کہا جاۓ گا اور جو اللہ کو اپنی جان کے لیے قبول کرے گا وہ صاحب ایسا ر ہے ہیں ۔شکل جتنی بھی خوبصورت ہو نصیبوں کی محتاج ہوتی ہیں دنیا میں ہر کام مکن مگر کسی کے دل میں زبردستی محبت نہیں پیدا کر سکتے ۔

دن کے اجالے میں عورت کو گالیاں دینے والا مرد رات کے اندھیرے میں جسم کی بھوک میں اس عورت کے پاوں بھی چومتا ہے ۔جو در وازے آپ پر بند ہو جائیں انھیں کھٹکھٹا کر اپنی عزت نفس نہ گرائیں ۔اور اگر عورت کو پیوں کی ضرورت ہو تو وہ بھی محبت کے ذریعے سودے بازی کرتی ہے ۔

مر دجب اپنے بستر کے لیے عور تیں تلاش کرتا ہے ۔ تواس کو سب سے زیادہ فکر یہ ہوتی ہے ۔ کہ عورت حسین ہو ، چاہے وہ خود کتناہی مکر وہ صورت کیوں نہ ہو ۔دنیا کی ساری چیزیں ٹھو کر لگنے سے ٹوٹ جاتی ہیں ، مگر صرف انسان وہ چیز ہے جو ٹھوکر لگنے کے بعد بنتا ہے ۔مر دا گر آپ کے پاؤں بھی پکڑ لیں تو بھی اس کے ساتھ ایک کام مت کر نا ۔ ورنہ وہ آپ کو چھوڑ دے گا ۔ اسے اپنے ماضی کی کوئی غلطی نہ بتانا ۔

،

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.