محبت قدر مانگتی ہے ۔ تعریف مانگتی ہے ، سراہے جانا چاہتی ہیں ۔ باقی لوگوں سے الگ اور ممتاز برتاؤ مانگتی ہے ۔

کسی سے دور ہونا اور کسی کو دور کر دینا آسان نہیں ہوتا ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بے حس ہوگئے ہیں ۔ لیکن بہتری کیلیے راستے الگ کرنا پڑتے ہیں اس ایک حقیقت میں بہت تلخی چھپی ہوئی ہوتی ہوئی ہوتی ہے ۔ ہو جیسے آپ بے رخی سمجھ رہے ہوں وہ اس شخص کی ذات کا اذیت بھرا دور ہو !!! سکتا اگر قسمت میں آدھی روٹی ہے ۔ تو مچھین کر پوری بھی کھا لو گے تو الٹی آجائے گی کبھی نصیب سے زیادہ ہضم نہیں ہوتا ہے پھر وہ چاہے روٹی ہو یا محبت ! عورت اگر پرندے کی صورت میں خلق ہوتی تو ضرور ” مور ” ہوتی اگر چوپائے کی صورت میں خلق ہوتی تو شاید ” ہرن ” ہوتی اگر کیڑے مکوڑے کی شکل میں تخلیق کی جاتی تو ” تتلی ” ہوتی۔لیکن وہ انسان خلق ہوئی تاکہ ماں بہن اور عشق عشق بنے ۔

عورت اتنی بڑی اشرف المخلوقات خدا میں سے ہے۔اس حد تک نازک مزاج کہ پھول اسے راضی اور خوش کر دیتا ہے ۔ اور ایک لفظ اسے مار ۔ دیتا ہے ۔ عورت تمہارے دل کے نزدیک سے بنائی گئی ہے ۔ تاکہ تم اس دل میں جگہ دو تعجب اور ہے کیا عورت اپنے بچپنے میں باپ کے لیے برکت کے دروازے کھولتی ہے اپنی جوانی میں اپنے شوہر کا ایمان کامل کرتی ہے۔ماں بنتی ہے تو جنت اس کے قدموں تلے جنت آجاتی ہے ۔ اشفاق احمد کہتے تھے کہ محبت کسی کے لیے اپنی جان قربان کرنا نہیں ہے کیونکہ یہ جان تو اللہ کی امانت ہے ۔ ہمارے پاس محبت تو کسی کی رضا اور خوشی کیلئے اپنی رضا اور خوشی قربان کرنے کا نام ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.