زنا کے متعلق متعدد عذاب

ایک حدیث شریف میں ہے کہ جو آدمی زنا کر تا ہے اور اس سے بعض نہیں آتا جب وہ مرے گا اور قیامت کے دن آٹھے گا تو اس کی دونوں آنکھوں کے در میان عورتوں کی مانند شر مگاہ ہو گی :

بول چال اور اسی طرح زنا کروانی والی عورت بھی جب قیامت کے دن آٹھے گی تو کی بھی دونوں آنکھوں کے در میان مر دوں کے مانند عضو تناسل ہو گا ، اور ان کی شرمگاہ سے پیپ اور خوب ہے گا اگر اس کا ایک بھی قطرہ زمین پر گر پڑا تو تمام دنیا گرمی کے مارے جلنے لگے گی ۔

بول اگر دونوں کی اس گناہ کا احساس ہو تا کہ ان کی وقتی لذت سے کس قدر بڑے شر اور فساد کے دروازے کھلتے ہیں تو انہیں اس شر مناک جرم کے ارتکاب کی نسبت اپنے وجود کو فنا کر دینا آسان دکھائی دیتا ۔

بالخصوص جب ان کے اس زنا کے عمل کا نتیجہ اس بچے کی صورت میں نمودار ہو تا ہے ، بول چال ایک عیاش اور بد معاش عورت یا تو بچے کو پید اہوتے ہی اس کا گلا گھونٹ دیتی یاسقاعط حمل کروائی لیتی تا کہ اس سے عورت کی جان ا چھوٹ جاۓ ، اگر وہ ایسانہ کرتی تو ولادت کے بعد اس بچے کو لاوارث کر کے پھینک دیتی ۔

ہمارے پیارے نبی کے فرمان کے مطابق ایک زانی اپنے اہل و عیال کے لئے برانمونہ ہے ایسا انسان نہ اپنی نسل کی پر واکر تا ہے اور نہ اپنی عزت کی ، کیوں کہ خواہش نفسانی کا نشہ اس پر سوار ہوتا ہے ،

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.