رات گئے مشکوک سرگرمیاں ؟ ڈاکٹر عامر لیاقت سے کون ، کون ملنے آیا ؟ ڈرائیور کس حالت کیسی ہے؟ بڑا انکشاف ہوگیا

ڈرائیور کس حالت کیسی ہے؟ بڑا انکشاف ہوگیا

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی عامر

لیاقت حسین جمعرات کو کراچی میں49برس کی عمر میں انتقال کر گئے، اسپتال منتقلی کے بعد ڈاکٹرز نے ان کی موت کی

عامر لیاقت کیلئے کوئی وینٹی لیشن یہاں پر نہیں ہے  وہاں پر لوگ آئے تو شو ر کرنے لگے کہ ڈاکٹر کی صحت صحیح نہیں ہے ، انہیں یہاں سے لے جایا گیا مجھے لگتا ہے کہ اسی وقت فوت ہو چکے تھے ۔ جمشید قاضی کا کہنا تھا کہ گھر میں ایک ان کا ملازم جاوید تھا ایک ان کا ڈرائیور ممتاز ہےان کی طبعیت صحیح نہیں تھی ۔ ان سے لوگ ملنے آتے رہتے تھے کیونکہ وہ ایک سیاسی وسماجی شخصیت تھیں ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کراچی میں49برس کی عمر میں انتقال کر گئے، اسپتال منتقلی کے بعد ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔جمعرات کی صبح عامر لیاقت حسین کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹرز نے معائنے کے بعد انتقال کی تصدیق کی، جبکہ ان کے ڈرائیور جاوید نے پہلے ہی موت کی تصدیق کردی تھی۔ڈاکٹرز کے مطابق عامر لیاقت حسین کو جب اسپتال لایا گیا تو وہ انتقال کر چکے تھے۔ڈرائیور جاوید کے مطابق گھر میں عامر لیاقت کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تاہم اندر سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔عامر لیاقت حسین اپنے آبائی گھر خداداد کالونی میں موجود تھے، گھر پر موجود ملازمین دروازہ کھول کر اندر گئے تو وہ بے ہوش حالت میں بستر پر موجود تھے جس کے فوری بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔عامر لیاقت کے ڈرائیور جاوید نے 15 پر عامر لیاقت کی طبیعت کے حوالے سے اطلاع دی تھی۔ملازم جاوید نے بتایا کہ گزشتہ شب عامر لیاقت نے سینے میں درد کی شکایت بھی کی تھی جس پر انہیں اسپتال چلنے کا کہا گیا تاہم انہوں نے انکار کردیا اور پھر صبح ان کے کمرے سے چیخنے کی آواز بھی سنائی دی تھی۔ ان کے ملازم نے بتایا کہ وہ گزشتہ رات ملک چھوڑنے کی تیاری کررہے تھے جبکہ اس دوران بہت روئے جس کے باعث ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ملازم نے بتایا کہ جب سے دانیہ شاہ سے ان کے معاملات خراب ہوئے تھے وہ ہروقت ٹینشن میں رہتے تھے، شدید ڈپریشن کا شکار تھے جس کے باعث ان کی طبیعت بہت زیادہ ناساز تھی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.