زندگی سے لڑتا رہا جیتتا رہا پھر زندگی سے ہی ہار گیا، عامر لیاقت کے حوصلے ٹوٹنے کے ایسے اسباب جو ان کی موت کا باعث ہو سکتے ہیں

انسان اس دنیا میں جب آتا ہے تو اس کا یہاں آنے کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اس مقصد کے حصول کے لیے وہ کسی نہ کسی شعبے کا انتخاب کرتا ہے اور باقی ماندہ زندگی اسی شعبے میں ترقی کرنے کی کوششوں میں گزار دیتا ہے- آج اچانک جب عامر لیاقت کے انتقال کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں تو اس نے سننے والے تمام افراد کو صدمے سے دو چار کر دیا۔ عامر لیاقت کو ہمشہ خبروں میں رہنے کا شوق تھا اور ان کی ایسے اچانک موت نے انہیں ایک بار پھر خبروں سے سرخی بنا دیا-

ڈاکٹر عامر لیاقت کے تعارف کے لیے کسی ایک شعبے میں ان کی مہارت کو بیان کرنا ان کے ساتھ زيادتی ہو گی ان کی پیدائش 5 جولائی 1971 کو کراچی میں ہی ہوئي تھی ان کے والد ایک سیاست دان جب کہ ان کی والدہ کالم نگار تھیں- ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پی ایچ ڈی بھی تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر عامر لیاقت لگایا جاتا تھا- مگر ان دونوں شعبوں میں ڈگریاں لینے کے باوجود انہوں نے اپنے کیرئير کا آغاز بطور ایف ایم 101 میزبان کے طور پر کیا اور اس کے بعد وہاں سے ٹی وی پر پروگرام عالم آن لائن نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیے- عامر لیاقت جو بھی کام کرتے تھے اپنے منفرد انداز سے جم کر کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جب گیم شو شروع کیا تو اس میں بھی عروج ہی ان کا نصیب بنا-

عامر لیاقت کی سیاسی زندگی بھی ان کی زندگی کی طرح بہت منفرد رہی کم عمری ہی میں 2002 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ سے ایم این اے بن گئے بلکہ وزارت مذہبی امور کا اہم ترین قلم دان بھی سنبھال لیا-

مگر یہاں پر بھی اپنی سوچ کے فرق کے سبب ان کو استعفی دینا پڑا اور اس کے بعد 2018 میں انہوں نے ایم کیو ایم کو خیر آباد کر کے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور ایم این اے بن گئے- نظریاتی اختلافات کا سلسلہ یہاں بھی جاری رہا اور تحریک عدم اعتماد کے موقع پر انہوں نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کر دیا-

مگر یہاں پر بھی اپنی سوچ کے فرق کے سبب ان کو استعفی دینا پڑا اور اس کے بعد 2018 میں انہوں نے ایم کیو ایم کو خیر آباد کر کے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور ایم این اے بن گئے- نظریاتی اختلافات کا سلسلہ یہاں بھی جاری رہا اور تحریک عدم اعتماد کے موقع پر انہوں نے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کر دیا-

ان کی مزاج کا تغیر ان کی ازدواجی زندگی کے معاملات میں بھی آڑے آتا رہا۔ ان کی پہلی شادی جو تقریباً پندرہ سال تک بشریٰ عامر کے ساتھ چلی اس سے اللہ نے ان کو ایک بیٹا اور ایک بیٹی سے بھی نوازہ مگر طویل ہمسفری طوبیٰ انور کے عامر لیاقت کی زندگی میں آنے کے بعد طلاق پر پہنچ کر ختم ہوا اور عامر لیاقت نے طوبی سے نکاح کر لیا اور بشریٰ کو طلاق دے دی طوبی سے ان کی شادی صرف تین سال چل سکی اور یہ بھی علیحدگی پر پہنچ کر ختم ہوئی-

جس کے فوراً بعد انہوں نے دانیہ کے ساتھ تیسری شادی کر لی دانیہ کے ساتھ تین ماہ کی شادی اور علیحدگی کی خبروں اور دانیہ کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات ایک جانب تو عامر لیاقت کی شہرت کے لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوئے- اس کے ساتھ ساتھ اس نے ان کو مایوسی کا بھی شکار کر دیا تھا-

عامر لیاقت کی اس اچانک موت کے حوالے سے اگرچہ پولیس تحقیق کر رہی ہے مگر ہم یہاں ان اسباب کے بارے میں بات کریں گے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب انسان اندر سے مر جائے تو سانس لینے کا نام زندگی نہیں ہوتی-

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.