ایک حسین و جمیل نرس سے ڈاکٹر کو پیار ہوگیا

یہ آج سے تقریبا پچیس سال پہلے کا واقعہ ہے ، کامران ایک سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر تھا ۔ اس ہسپتال میں ثمرین ایک نرس کے طور پر بھرتی ہوئی ۔ ثمرین نہایت خوبصورت اور قد آور لڑکی تھی اور کامران کو بچپن سے ہی اس بات کا شوق تھا کہ اس کی بیوی کا قد بڑا ہونا چاہیے ۔ گھر والے جب بھی اس کے لیے کوئی لڑکی تلاش کرتے تو وہ سب سے پہلے یہی بات پوچھتا کہ لڑکی کا قد کتنا ہے ، اور اگر وہ اس کے مطلوبہ قد سے کم ہوتا تو وہ فورا شادی سے انکار کر دیتا ۔

ثمرین کا وہ پہلی ہی نظر میں دیوانہ ہو گیا تھا اور اس سے دوستی کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ شمرین نے بھی یہی سوچ کر اسے ملنا شروع کر دیا کہ کامران ایک ڈاکٹر ہے اور ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتا ہے ، مگر ثمرین نے ایک دن اس نے کہا کہ ہمارے ہاں عورت کا غیر مرد سے ملنا اچھا نہیں سمجھا جاتا اس لئے اگر آپ میرے بارے میں سنجیدہ ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں آپ سے مزید نہیں مل سکتی ۔کامران نے اس نے کہا کہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ، پھر ایک ہفتے کے بعد ان دونوں کی منگنی طے ہو گئی ۔ منگنی کے بعد امران نے اپنی منگیتر کے ساتھ فارغ وقت میں گھومنا پھرنا شروع ر دیا ۔ اور اس نے شمرین کے ساتھ جسمانی تعلق کی خواہش کا اظہار بھی کر دیا ۔ مگر وہ ضد کرتی رہی کہ یہ سب ٹھیک نہیں ہے اور شادی سے پہلے ایسا ممکن نہیں ہے ۔ مگر کامران نے اس سے کہا کہ کچھ ماہ بعد تو ہماری شادی ہو ہی جاۓ گی تو تم مجھ پر بھر وسہرکھو شادی سے پہلے ان کے درمیان جسمانی تعلق بھی قائم ہو گیا ۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک جاری رہا حتی کہ اس ہسپتال کو ایک لیڈی ڈاکٹر نے جوائن کر لیا جس کا نام ڈاکٹر سارا تھا ۔ سارا بھی حسین و جمیل لڑکی تھی ۔ کامران ڈاکٹر سارا میں بھی دلچسپی لینے لگا مگر و ہمیشہ کامران سے دور رہتی تھی

کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کی ایک نرس کے ساتھ منگنی طے ہو گئی ہے اور کچھ عرصہ بعد ان کی شادی بھی ہے ۔ گھر والے کامران پر زور دے رہے تھے کہ منگنی کیے ایک سال ہو گیا ہے ، ہماری خواہش ہے کہ اب تیری شادی ہو جاۓ لیکن کامران نے اپنے والدین سے کہا کہ مجھے بہت افسوس ہے کہ میرا انتخاب درست نہیں تھا ۔ وہ لڑکی شکل کے لحاظ سے تو اچھی ہے مگر اس کا کردار ٹھیک نہیں ہے ۔ جب اس کے والدین کو ہے اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے رشتے سے انکار کر دیا ۔ جب ثمرین کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ بھاگتی ہوئی کامران کے پاس آئی اور اس نے رشتہ ختم کرنے کی وجہ پوچھی کامران نے کہا

کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں جبکہ تم ایک نرس ہو مجھے اپنے لیول کی لڑکی سے شادی کرنی ہے جو کہ اب مجھے مل چکی ہے ۔ ثمرین نے رو کر کہا تو تم نے اتنا جو مجھے اندھیرے میں رکھا اور میرا استعمال کیا اس کا حساب کون دے گا ۔ کامران نے کہا کہ اگر میں نے تجھے استعمال کیا ہے تو تم نے بھی مجھے استعمال ضرور کیا ہے ۔ میں نے بھی تجھے مہنگے زیورات خرید کر دیے ہیں اور تجھ سے جسمانی تعلق قائم کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تم میرے لائق نہیں ہو ۔ پھرکامران نے شمرین کو چھوڑ کر لیڈی ڈاکٹر کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا ۔ جب شمرین نے یہ دیکھا کہ کامران نے اسے کوڑا سمجھ کر کوڑے دان میں پھینک دیا ہے تب اس نے بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا ۔ اس نے کامران سے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ میں آپ کے لائق نہیں ہوں مگر میں آپ سے بے حد پیار کرتی ہوں میری یہ خواہش ہے کہ تم آخری بار مجھ سے فلاں ہوٹل میں ملوو ہوس کے پجاری ڈاکٹر نے جب یہ سنا تو سوچا کے یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔

وہ بنسنور کر ہوٹل میں پہنچا تو شمرین پہلے سے ہی اس کا انتظار کر رہی تھی ۔ وہ جیسے ہی ثمرین سے زنا کرنے لگا تو شمرین نے تکیے کے نیچے سے ایک خنجر نکالا اور کامران کو ہمیشہ کے لئے نامر د کر ڈالا ۔ کامران خون سے لت پت ہو چکا تھا اسے ہسپتال منتقل کیا گیا اور شمرین کو پولیس پکڑ کر لے گئی ۔ کامران کی جان تو بچ گئی مگر اب وہ زندگی بھر کے لیے نامرد بن چکا تھا ۔ برے کام کا ہمیشہ برا نتیجہ ہی نکلتا ہے ، حلال کو چھوڑ کر دونوں نے حرام کام کیا تو دونوں کواپنے کیے کی سزا مل گئی,

ثمرین اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے دن رات گزار .رہی ہےاور کامران ساری زندگی شادی نہ کر سکا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.