س ہاگ رات کے دوران یہ غلطیاں کبھی نہ کریں ورنہ

شادی کا آغاز جماع بالجبر سے نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اکثر زبردستی قربت سے نہ صرف ذہن پر غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ جسمانی تکلیف بھی ہوتی ہے۔ ان دشواریوں کا نہ ہی کسی ادیب نے اپنی کہانی یا ناول میں ذکر کیا ہے اور نہ کسی شاعر نے پہلی رات کے گن گاتے ہوئے ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پہلی رات جب دشواریاں حائل ہو جاتی ہیں تو بیوی گھبرا جاتی ہے۔ شوہر الگ گھبراتا ہے۔ وہ اسے اپنی کمزوری سمجھتا ہے۔ اسلیے وہ بھی اپنی بیوی کو تسلی نہیں دے سکتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شادی کے ابتدائی دنوں کی ساری شعریت ختم ہو جاتی ہے اور دونوں جو خواب دیکھتے ہیں ان کا خون ہو جاتا ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ بعض قوموں میں شادی کی پہلی رات جنسی قربت ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ کچھ وحشی قوموں میں اس قربت کو اس وقت تک ملتوی رکھا جاتا ہے جب تک کہ بیوی شوہر سے بےتکلف نہ ہو جائے۔ آج بھی امریکہ کے ریڈ انڈینز میں ابتدائی تین راتوں تک جنسی قربت کی ممانعت ہے۔ اس اصول کو قائم رکھنے کے لیے نئی دلہن کے پاس کوئی بچہ سلا دیا جاتا ہے۔ سماترا کے ایک قبیلے میں شادی کے بعد شوہر کو ایک کشتی بنانی پڑتی ہے۔ ایک باغ لگانا پڑتا ہے۔ اس طرح تقریباً تین ہفتوں تک وہ اپنی بیوی سے جنسی قربت حاصل نہیں کر سکتا

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر عورتیں اپنی پہلی مباشرت میں زیادہ آسودگی محسوس نہیں کر سکتیں۔ کبھی کبھی تو ان کی تسکین کئی ہفتوں بلکہ مہینوں کے تجربوں کے بعد ہوتی ہے۔ اب یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہیے کہ ابتدائی زمانہ بہت پرلطف ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کے لئے یہ زمانہ تجربات کے لئے ہوتا ہے ۔ وہ اس میں غلطیاں بھی کرتے ہیں، سیکھتے بھی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں بعض وجہ سے جنسی تجربے ممکن ہی نہ ہوں ۔ عورتیں اس ابتدائی زمانے میں اپنے شعوری یا لاشعوری خوف کی وجہ سے اور بھی مشکل میں پڑ جاتی ہیں ۔ یہ خوف صرف ابتدائی تربیت کی وجہ ہی سے نہیں بلکہ فطری بھی ہوتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ سے جنسی اعضاء خشک ہو جاتے ہیں، جنسی قربت میں تکلیف ہوتی ہے ۔

یہ تو ہم نے پہلی رات، عورت کو در پیش ذہنی اور جسمانی رکاوٹوں کے بارے میں کچھ تفصیل معلوم کرنے کی کوشش کی۔ نہ صرف عورت کے لئے بلکہ مرد کے لئے بھی پہلی رات کو ایک مرحلہ کھڑا ہو سکتا ہے ۔ اکثر وبیشتر نوجوان جنہیں پہلی بار عورت کا صحیح قرب میسر ہوتا ہے وہ گھبراہٹ یا لا علمی کی وجہ سے منزّل ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں تحریک ہی نہیں ہوتی ۔ نادان نوجوان ایسے وقت جنسی فعل میں ناکام ہوجانے پر خود کو نامرد سمجھ لیتے ہیں حالانکہ دراصل یہ ایک وقتی بات ہے ۔ ایسی گھبراہٹ اور ناکامی سے بچنے کے لئے ہی ماہرین جنسیات نے شادی کے چند روز بعد مباشرت کرنے کی سفارش کی ہے ۔

یہاں یہ بتادینا لازمی امر ہے کہ عورت مرد کے اجسام کی طرح ، ان کے جنسی جذبات میں بھی فرق ہوتا ہے ۔ مرد کے جسم میں جنسی تحریک جلد بیدار ہوتی ہے ، اور وہ بیقرار ہونے لگتا ہے ۔ اس کے بر خلاف عورت کی جسمانی ساخت اور فطری شرم و حیا کی زیادتی کے باعث جنسی جذبات دیر میں جاگتے ہیں اور اسی تناسب سے وہ تسکین بھی دیر میں حاصل کرتی ہے۔ جب کہ مرد اکثر و بیشتر جلد ہی اختتام کو پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی اپنا مطلب حاصل کر کے الگ ہوجاتے ہیں اور جب بیوی کے شہوانی جذبات بھڑکنے لگتے ہیں تو مرد فی الحال ان کی پذیرائی کی صلاحیت کھو چکا ہوتا ہے ۔ جس کا نتیجہ خراب ہوتا ہے ۔ عورت کے جذبات کی آگ بڑھتی جاتی ہے اور پھر اس کا رد عمل تشنگی کا احساس اور نفرت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ اسی لئے پہلی رات کی ایک ناکام مباشرت سے چند روز بعد کی ایک کامیاب مباشرت بہرحال بہتر ہے ۔

ان ساری باتوں سے قطع نظر بعض لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ شادی کی پہلی رات “خالی” نہ جانی پائے ورنہ اس بات کا خدشہ ہوگا کہ کہیں دلہن کے رشتہ دار اور احباب دولہا کو نامرد نہ خیال کرنے لگیں ۔ لیکن اگر ہم بنظر غائر دیکھیں تو مردمی کا یہ اظہار بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی نے کھانا سامنے آتے ہی اس پر ہاتھ دے مارا اور نتیجہ میں منہ جلا بیٹھا۔ حالانکہ تھوڑے سے توقف کے بعد اطمینان سے بھی کھایا جا سکتا ہے ۔

بات”پہلی رات” کی چل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

روئے زمین پر پہلی رات کی مباشرت کے سلسلہ میں دو مکتب خیال ہیں۔۔۔۔۔ ایک گروہ “گربہ کشتن روز اول” پر کاربند رہنا چاہتا ہے اور دوسرا گروہ “دیر آید درست آید” کا قائل ہے!

سہاگ رات میں اگر دولہا دلہن ایک دوسرے کے لئے بالکل اجنبی ہیں تو اکثر تجربہ کاروں کا مشورہ ہے کہ اس رات مجامعت نہ کی جائے بلکہ ہفتہ عشرہ کے لئے ملتوی کی جائے ۔ ہاں اگر دولہا دلہن میں پہلے کی “جنسی شناسائی” ہے تو سمجھئے یہ “لائیسنس یافتہ” ہیں، ان پر کوئی روک نہیں ۔ یہ بلا خطر مصروف کار ہو سکتے ہیں ۔ اب رہ جاتا ہے معاملہ ایسے دولہا دلہن کا جن کی شادی سے پہلے کی شناسائی ہے لیکن جنسی قربت نصیب نہیں ہوئی اور اگر ان کا تعلق پہلے گروہ سے یعنی”گربہ کشتن روز اول” سے ہے تو پھر ان کو چاہئے کہ کسی صورت پہلی رات کو ایک “یادگار رات” بنائیں، کیونکہ یہ کئی راتوں کے بعد آئی ہے ۔ اور بہر قیمت وہ اس رات شرابِ مواصلت سے ضرور لطف اندوز ہوں لیکن اس ضمن میں اس بات کا خیال رکھنا لازم ہے کہ جنسی ملاپ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک جسمانی تجربہ بھی ہوتا ہے اور ایک جذباتی تجربہ بھی اور اس میں شہوانیت ، جذباتیت دونوں کے عناصر شامل ہوتے ہیں

جنسی ملاپ کے لئے جسمانی طور پر تیار ہونے سے پہلے عام طور پر ایک عورت کو دل لگی ، مذاق، خوشامد ، چوماچاٹی ، نازبرداری ، جسمانی رگڑ ، جسمانی دراز دستی اور مساس کے ایک دور کی ضرورت ہوتی ہے ۔ در حقیقت اس ابتدائی چھیڑ چھاڑ اور دل لگی کا ایک حیاتیاتی سبب بھی نظر آتا ہے ۔ کیونکہ یہ حیوانی زندگی میں جنسی ملاپ سے پہلے خاص حد تک مشاہدہ میں آتی ہے کہ حیوانات میں مباشرت کا اس وقت تک امکان نہیں ہوتا جب تک کہ ایک مادہ اپنے نر کو از خود بہ رضا قبول نہیں کر لیتی اور اس کے قبول کرنے سے پہلے ایک نر کے لئے ایک مادہ کا پیچھا کرنا اور اس کو راضی کرنا لازم ہوتا ہے اور یہ صرف لبونات اولی یعنی گوریلوں اور انسانوں ہی کی بات ہے کہ ان میں ایک مادہ سے اس کی خواہش نہ ہونے کے باوجود بھی مباشرت ممکن ہوتی ہے۔

چونکہ پہلی مباشرت عورت کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ ہوتی ہے اسی لئے خاص اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی اولیں تجربہ کی بنا پر اس کی ازدواجی زندگی کی داغ بیل پڑتی ہے ۔ اگر یہ تجربہ اس کے لئے کامیاب رہا اور موجب مسرت ہوا تو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے اثرات آئندہ زندگی پر بہت اچھے پڑیں گے اور اگر تجربہ ناکام رہا اور عورت کے ذہن اور نفس پر اس کا اچھا اثر مرتب نہیں ہوا تو ایک عرصے تک زندگی میں اس کے خراب ثرات باقی رہیں گے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.