میں والدین سے نہیں ملنا چاہتی دعا زہرا نے عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ وہاں موجود تمام لوگوں نے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیا ۔۔ عدالت میں دعا زہرہ کے انکار پر والدہ رو پڑیں،

دعا زہر کی بازیابی کے بعد آج عدالت میں دعا زہرہ اور ظہیر احمد کو پولیس کے حصار میں پیش کیا گیا جہاں دعا زہرہ کے والدین بھی موجود تھے۔

گزشتہ روز دعا زہرہ کو بہاولنگر سے بازیاب کرایا گیا تھا، جہاں وہ رہائش اختیار کیے ہوئے تھیں، تاہم پنجاب پولیس کی جانب سے انہیں اور ظہیر احمد کو حفاظتی تحویل میں لے کر سندھ پولیس کے حوالے کیا گیا۔

دعا زہرہ کے والدین اس حوالے سے خوش تھے کہ بچی کو بازیاب کرا لیا گیا ہے لیکن آج عدالت کے سانے دعا زہرہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے شادی کی ہے۔ دعا زہرہ کا کہنا تھا کہ میں شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں،

دعا زہرہ کے والدین اس حوالے سے خوش تھے کہ بچی کو بازیاب کرا لیا گیا ہے لیکن آج عدالت کے سانے دعا زہرہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے شادی کی ہے۔ دعا زہرہ کا کہنا تھا کہ میں شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں،

جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق دعا زہرہ نے عدالت میں ہی والدین سے ملنے سے انکار کر دیا، جس پر والدہ رو پڑیں۔

عدالت میں سماعت کے لیے آنے والی دعا زہرہ نے سفید چادر اوڑھ رکھی تھی جبکہ چہرے پر بھی سیاہ پردہ کیے ہوئے تھیں، دوسری جانب ظہیر احمد نے چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا۔

عدالت کی جانب سے دعا زہرہ کی عمر معلوم کرنے کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.