حج سے واپسی پر کچھ ہفتوں تک بیوی نوٹ کرتی رہی کہ حاجی صاحب اب مجھے

نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔دوستو، کپتان کے آزادی مارچ میں تقریر جاری تھی اچانک درمیان میں ان کے ایک قریبی ساتھی نے باآواز بلند سرگوشیانہ انداز میں خان صاحب کے کان میں کہا۔۔ تھوڑا اسلامی ٹچ بھی دیں۔۔یعنی تقریر میں کوئی اسلامی بات بھی کریں۔۔ یہ چھوٹا سا کلپ سوشل میڈیا پر اتنا وائرل ہوا کہ ہم بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے۔۔ ہمارے احباب اکثر ہم سے شکوہ کرتے ہیں کہ ۔۔آپ کی اوٹ پٹانگ باتوں سے ہم بہت لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اچانک آپ ان اوٹ پٹانگ باتوں میں اسلامی ٹچ دے دیتے ہیں تو ہمیں سنجیدہ ہونا پڑجاتا ہے۔۔ایسے احباب کو ہم جواب میں کہتے ہیں۔۔ بطور مسلمان جب تک ہماری زندگیوں میں اسلامی ٹچ نہیں آئے گا، ہم مسلمان کہلائے جانے کے مستحق نہیں ہوں گے۔۔ اسلامی ٹچ ہماری چوبیس گھنٹے کی زندگی میں ازحد ضروری ہے۔۔ دن میں پانچ نمازیں، جھوٹ سے مکمل پرہیزایسے لاتعداد اعمال ہیں جن پر عمل کیا جائے تونہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی بھلائی ہی بھلائی اور موجاں ای موجاں۔۔ بقول علامہ اقبال صاحب۔۔عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔۔یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔۔اس شعر کو ہمارے ایک لبرل دوست جب بھی پڑھتے ہیں تو ’’خاکی‘‘ پر زور دیتے ہیں، جب ہم اس زور کی وجہ دریافت کرتے ہیں تو ببانگ دہل کہتے ہیں۔۔

’’خاکی‘‘ سے ہی اس ملک کا نظام چل رہا ہے ورنہ سیاست دانوں نے تو اس ملک کو ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔چلئے یہ باتیں تو چلتی رہیں گی۔۔ اپنی اوٹ پٹانگ باتیں شروع کرتے ہیں، آج چونکہ اتوار ہے اس لئے آج فل تفریحی ماحول ہونا چاہیئے۔۔جون ، جولائی میں ہرسال بچوں کے اسکولوںکی چھٹیاں پڑتی ہیں۔۔ اس بار کے لئے باباجی نے تمام شوہروں کو ایک نسخہ کیمیا دیا ہے۔۔ باباجی فرماتے ہیں۔۔گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی ہیں۔ کسی ایک کے گھر جاکر اُس پر بوجھ نہ بنیں۔ بچوں کو نانی کے گھر بھیج دیں ۔۔بیوی کو اُس کے ابو کے گھر بھیج دیں۔۔اور آپ خود اپنے سسرال چلے جائیں۔۔ایک نوجوان پہلی بار ٹرین میں سفر کررہا تھا۔۔ مسافروں سے پوچھا، ساہیوال کب آئے گا، مجھے اترنا ہے۔۔مسافروں نے کہا۔۔بھائی یہ ٹرین ساہیوال سے گزرے گی مگر رکے گی بالکل بھی نہیں۔۔یہ سن کر نوجوان گھبرا گیا ، مگر مسافروں نے اسے تسلی دی ، دلاسہ دیا کہ گھبرانا نہیں ہے۔۔ساہیوال اسٹیشن سے گذرتے ہوئے یہ ٹرین آہستہ ہو جاتی ہے۔۔تم ایک کام کرنا جیسے ہی ٹرین آہستہ ہو تو تم دوڑتے ہوئے ٹرین سے اتر کر آگے کی طرف بھاگ پڑنا،

جس طرف ٹرین جا رہی ہے اس طرح کرو گے تو تم گروگے نہیں۔۔نوجوان کو مسافروں کا مشورہ بہت پسند آیا۔۔ ساہیوال آنے سے پہلے ہی مسافروں نے نوجوان کو گیٹ پر لے جاکرکھڑا کردیا۔۔جیسے ہی ساہیوال اسٹیشن پر ٹرین تھوڑی آہستہ ہوئی تو نوجوان نے مسافروں کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق پلیٹ فارم پر چھلانگ لگادی اور کچھ زیادہ ہی تیزی سے دوڑ گیا۔۔اتنا تیز دوڑا کہ گرتا پڑتا ساتھ والے اگلے ڈبے تک جا پہنچا۔ اگلے ڈبے کے کچھ مسافر دروازے میں کھڑے تھے ان مسافروں میں کسی نے نوجوان کا ہاتھ پکڑا، تو کسی نے شرٹ پکڑی اورنوجوان کو کھینچ کر ٹرین میں چڑھا لیا۔۔اب ٹرین رفتار پکڑ چکی تھی اور سب مسافر کہہ رہے تھے۔۔تیرا نصیب اچھا ہے جو تجھے یہ گاڑی مل گئی۔ورنہ یہ ٹرین ساہیوال میں نہیں رکتی!!

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.