نوجوان نے دوست کو قتلکرنے کے بعد لا ش کے ساتھ سیلفی لی اور سنیپ چیٹ پر پوسٹ کر دی

18 سالہ نوجوان کو اپنے دوست کو قتلکرنے کے بعد اس کی لا ش کے ساتھ سیلفی لینے پر جیل بھیج دیا گیاہے۔

پنسلوینیا سے تعلق رکھنے والے میکسول مورٹن  نے جج کو کہا کہ اسے ”ظا لم“ کے طور پر یاد نہ رکھا جائے۔  اس نے 2015 میں 16 سالہ ریان منگان کے قتلکا عتراف کرتے ہوئے معذرت بھی کی۔ جج نے اسے 15 سے 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔مورٹن نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ اور ریان ہینڈ گن سے کھیل رہے تھے۔اس نے یہ سوچتے ہوئے کہ گن خالی ہے، اسے ریان کی طرف تانا اور فا ئر کر دیا۔مورٹن نے بتایا کہ اس نے بعد لا ش کے ساتھ سیلفی بھی لی تاکہ حادثے کا ثبوت رہے، مورٹن کے مطابق وہ بعد میں خود کو بھی قتلکرنا چاہتا تھا۔اس سارے واقعے کو حادثہ سمجھا جا رہا تھا کہ مورٹن کے ایک دوسرے دوست نے عدالت میں اصل حقیقت بیان کردی۔

دوسرے نوجوان نے بیان دیا کہ قتل کی شام آن لائن ویڈیو گیم کھیلتےہوئے  مورٹن نے شیخی مارتے ہوئے اسے بتایا کہ اسے اس کی  پہلی لاش مل گئی ہے۔

دوسرا نوجوان مذاق سمجھتا رہا لیکن مورٹن نے اسے ریان کے قتلکی خبر کا  لنک اسے بھیجا اور پھر سنیپ چیٹ میسج میں اسے ریان کے ساتھ لی ہوئی سیلفی بھیج دی۔

اسسٹنٹ ڈسٹرک اٹارنی ٹام گریس نے عدالت سے درخواست کی کہ اسے زیادہ سے زیادہ 40 سال کی سزا سنائی جائے لیکن مورٹن کے وکیل نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے اس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

جج میگن بیلیک ڈیفازیو کا کہنا ہے کہ مورٹن نے پولیس کو بلانے یا کسی کو مدد کے لیے بلانے کی بجائے لا ش کے ساتھ سیلفی لی۔ پوسٹ مارٹم سے پتا چلا کہ ریان گو لی لگنے کے بعد فوراً ہی نہیں مرا تھا۔ اسے بچایا جا سکتا تھا۔ جج کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں اگر سیلفی سامنے نہ آتی تو حالات دوسرے ہوتے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.