جو عورت ایک اجبنی مرد کو اپنی انگیا کا سائز صیحح بتادے وہ ۔۔

نے عورت کو عشق کے نام پر بس چونا ہی لگایا ہے ، مہندی نہیں ۔ میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتا دوں۔

وہ لوگ جن پرخدا کی مہربانی ہوتی ہے ، وہ اس سے ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں ۔

عورت سے عشق اور محبت کرنے کا واحد مقصد جسمانی لذت ہوتا ہے۔ بیٹی پیدا کوئی نہیں کرنا چاہتا ،

لیکن بستر پرسارے مرد عورت چاہتے ہیں۔ کوئی لڑکی کسی سے محبت کرے تو ضروری نہیں کہ وہ بدکردار ہو۔

عورت مرد کی محبت کو ہمشہ ہوس اوراپنی ہوس کو ہمیشہ محبت سمجھتی ہے۔

میرے الفاظ گندے نہیں ، تمہاری سوچ گندی ہے میرے الفاظ صرف نن گے ہیں۔ عورت مرد کی کمائی کا ایک بڑا حصہ اپنے اوپر اس غرض سے خرچ کرتی ہے

کہ دوسرے مردوں کی توجہ حاصل کرسکے۔ عورت کو ڈر ہر مرد سے لگتا ہے ، سوائے اس کے جو اسے پسند آجائے خواہ وہ شرابی ہی کیوں نہ ہو۔

مرد ہمیشہ اس عورت سے محبت کرتا ہے جو حقیقت میں محبت کیےجانے کے قابل نہیں ہوتی۔ ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہوتی ہے ۔

باقی ہمارے لیے کوئی عورت نہیں ہوتی۔ بس گو ش ت کی دکان ہوتی ہے۔ اور ہم اس دکان پر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں

جن کی ہوس زدہ نظر ہمیشہ گ وشت پرپڑتی ہے۔ مرد کو اگر عورت کے دیدار کا بھوکا رکھا گیا تو وہ اپنے ہم جن سوں میں ہی اس کا عکس دیکھنے کی کوشش کرے گا۔

عورت جو ایک بالکل اجنبی مرد کو اپنی انگیا کا سائز صیحح بتا دے ۔ دھ و کے باز ہرگز نہیں ہوسکتی۔

جج:تمہاری تحریریں بہت گند ی ہیں۔ بہت گند لکھتے ہو۔ منٹو نے کہا:جناب میرے ار دگرد بہت گند ہے۔

آپ گند ہٹائیے میں گندنہیں لکھوں گا۔ ہمارے پاس بیچنے کو بہت کچھ ہے مثلاً غیرت، مذہب، قوم ، زمین وغیرہ ۔

جس ملک میں ہم رہتے ہیں سر نن گا ہو تو کہتے ہیں تمہاری نماز نہیں ہوئی۔

مرد نے عورت کو عشق کے نام پر بس چونا ہی لگایا ہے ، مہندی نہیں ۔ میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتا دوں۔

وہ لوگ جن پرخدا کی مہربانی ہوتی ہے ، وہ اس سے ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں ۔

عورت سے عشق اور محبت کرنے کا واحد مقصد جسمانی لذت ہوتا ہے۔ بیٹی پیدا کوئی نہیں کرنا چاہتا ،

لیکن بستر پرسارے مرد عورت چاہتے ہیں۔ کوئی لڑکی کسی سے محبت کرے تو ضروری نہیں کہ وہ بدکردار ہو۔

عورت مرد کی محبت کو ہمشہ ہوس اوراپنی ہوس کو ہمیشہ محبت سمجھتی ہے۔

میرے الفاظ گندے نہیں ، تمہاری سوچ گندی ہے میرے الفاظ صرف نن گے ہیں۔ عورت مرد کی کمائی کا ایک بڑا حصہ اپنے اوپر اس غرض سے خرچ کرتی ہے

کہ دوسرے مردوں کی توجہ حاصل کرسکے۔ عورت کو ڈر ہر مرد سے لگتا ہے ، سوائے اس کے جو اسے پسند آجائے خواہ وہ شرابی ہی کیوں نہ ہو۔

مرد ہمیشہ اس عورت سے محبت کرتا ہے جو حقیقت میں محبت کیےجانے کے قابل نہیں ہوتی۔ ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہوتی ہے ۔

باقی ہمارے لیے کوئی عورت نہیں ہوتی۔ بس گو ش ت کی دکان ہوتی ہے۔ اور ہم اس دکان پر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں

جن کی ہوس زدہ نظر ہمیشہ گ وشت پرپڑتی ہے۔ مرد کو اگر عورت کے دیدار کا بھوکا رکھا گیا تو وہ اپنے ہم جن سوں میں ہی اس کا عکس دیکھنے کی کوشش کرے گا۔

عورت جو ایک بالکل اجنبی مرد کو اپنی انگیا کا سائز صیحح بتا دے ۔ دھ و کے باز ہرگز نہیں ہوسکتی۔

جج:تمہاری تحریریں بہت گند ی ہیں۔ بہت گند لکھتے ہو۔ منٹو نے کہا:جناب میرے ار دگرد بہت گند ہے۔

آپ گند ہٹائیے میں گندنہیں لکھوں گا۔ ہمارے پاس بیچنے کو بہت کچھ ہے مثلاً غیرت، مذہب، قوم ، زمین وغیرہ ۔

جس ملک میں ہم رہتے ہیں سر نن گا ہو تو کہتے ہیں تمہاری نماز نہیں ہوئی۔

بندہ پورا نن گا ہوتو کہتے ہیں

کہ بابا پہنچی ہوئی سرکار ہے۔ جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری حاصل کرنا ہوتو معاشرے میں نو کر ہی پیدا ہوتے ہیں

رہنما نہیں۔ اجنبی عورتوں سے ہم قربت کے بعد ان کی درد بھری آنکھیں تمہاری روح میں روتی رہتی ہیں اور تم سوتے رہتے ہو۔

بندہ پورا نن گا ہوتو کہتے ہیں

کہ بابا پہنچی ہوئی سرکار ہے۔ جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری حاصل کرنا ہوتو معاشرے میں نو کر ہی پیدا ہوتے

کہ بابا پہنچی ہوئی سرکار ہے۔ جب تعلیم کا بنیادی مقصد نوکری حاصل کرنا ہوتو معاشرے میں نو کر ہی پیدا ہوتے ہیں

رہنما نہیں۔ اجنبی عورتوں سے ہم قربت کے بعد ان کی درد بھری آنکھیں تمہاری روح میں روتی رہتی ہیں اور تم سوتے رہتے ہو۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.