آج اتوار کا دن تھاگھر میں کوئی نہیں تھا فقیر آیا اور کہا میں رات سے بھوکا ہوں

آج اتوار کا دن تھااور مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو سکول سے چھٹی تھی تو ای ابو نے سوچا کہ کیوں نہ آج بچوں کو گھر چھوڑ کر گھر کے لئے کچھ ضروری سامان خرید اجاۓ اس طرح گھر کا خیال بھی رہے گا اور ساتھ خریداری بھی ہو جائے گی انہوں نے بازار جانے کی تیاری کی اور جاتے وقت مجھے سختی سے گھر میں رہنے کی تاکید کی اور یہ کہ کسی کے لیے بھی دروازہ نہ کھولنا اور چھوٹے بھائی کا خیالرکھنے کا کہہ گئے انہوں نے شام تک واپس آتا تھا

میری عمر اس وقت بارہ سال اور میرے بھائی اس وقت 8 سال کا تھا ہم تھوڑی دیر دونوں مل کر کھیلتے رہے اور پھر میں نے اپنے بھائی کو ٹی وی چلا کر دیا اور خود کچن میں پر میں چاۓ گرم کر کے پینے کی چاۓ پی کے میں نے کپ دھوکے رکھا تو اس وقت باہر کھٹی بھی میں نے دروازے پر جا کر پوچھا کہ کون ہے تو آگے سے کوئی مانگنے والا تھا کہنے لگا  اللہ کے نام پے کچھ دو میں نے کہا کہ بابا معاف کر دگھر میں کوئی نہیں ہے بس یہی میری غلطی تھی جو میں نے اسے بتادیا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے اس نے دوبارہ لہا دے دو میں رات سے بھوکا ہوں ۔ کچھ نہیں کھا یا وہ منت سماجت کرنے لگا روٹی تو کچن میں موجود تھی سو میں نے دروازہ کھول کر اس کو گھر میں بلا کر صحن میں بٹھاد ما اور خود روٹی نکالنے کچن میں چلی گئی دور وٹی اور پلیٹ میں سالن ڈال کر جب میں باہر آئیں تو وہ فقیر صحن میں نہیں تھا ۔ شاید وہ چلا گیا تھا میں نے سوچا میں نے دروازہ بند کیا اور نے کھانا واپس کچن میں رکھ کر بھائی کے پاس چلی گئی ۔ تو دیکھا کہ وہ ٹی وی دیکھتے دیکھتے وہیں سو گیاتھامیں نے ٹی وی بند کیا اور خود دوسرے کمرے میں جا کر لیٹ گئی ۔

اور سونے کی کوشش کرنے لگی تھوڑی ہی دیر میں مجھے نیند آگئی ابھی میں کچی نیر میں تھی کہ کسی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور مجھے اچھی طرح دبوچ لیا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو خوف کے مارے میر اسانس رکنے لگا۔جو فقیر کھانامانگنے آیا تھا اور کھاۓ بغیر ہی واپس چلا گیا تھا ۔ اس نے مجدد قابو کیا ہوا تھا میں تو سمجھیں کہ وہ چلا گیا ہےلیکن وہ کیا نہیں تھا بلکہ گھر میں ہی کہیں چھپ گیا تھا اور جب میں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا اور کمرے میں لیٹ گئی تو وہ چیکے سے میرے پیچھے آگیا تھا اور اب میں خود ہی اس کے حال میں پھنس چکی تھی ۔ میں اب طرف رہی تھی مچل رہی تھی لیکن اس کی گرفت کے آگے بے بس تھی میں ایک بارہ سال کی کمزور سی لڑکی اور وہ ہٹا کتامر دمیں کر بھی کیا سکتی تھی اب مجھے اپنی ماں کی نصیحت یاد آرہی تھی کہ بیٹاگھر میں رہتا دروازہ نہ کھولنا اور بھائی کا خیال رکھنا ، بھائی کا میں کیا خاک خیال رکھتی اب تو میراخیال رکھنے والا بھی کوئی نہیں تھا میں بے آواز رونے گی میری آواز تو ویسے بھی اس نے بند کر ڈالی تھی اس کے لیے میرس سانس بند ہو رہا تھامیں خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھیں مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہمیں کیا کروں پھر اس نے ایک ہاتھ سے میرے کپڑے اتارنے شروع کر دیے ۔

میں جتنا بھی زور لگا سکتی تھی لگارہی تھی لیکن اس نے مجھے کسی قابل نہیں چھوڑا تھا میں دل ہی دل میں اللہ سے دعا بھی کر رہی تھی کہ کاش کوئی تو ہو جو مجھے اس وقت بہالے میں آج کے بعد کوئی ایسی غلطی نہیں کروں گی کبھی کسی اجنبیکے لیے دروازہ نہیں کھولوں گی میں نے ایک بار پھر اپنا پوراز در لگایا ، اور اس کو اپنے اوپر سے ہٹانے کی پوری کوشش کی تو اس کا توازن خراب ہو گیا اور وہ اپنے آپ کو سنبال نہ سکا اور دھڑام کی آواز سے نیچے جا گردہ مجھے یہی وقت نقیمت لگا اور جب تک وہ اٹھا میں کمرے سے باہر کی طرف بھاگیں لیکن دروازے سے کراکر گر پڑی دوبارہ شور کی آواز پیدا ہوئی اور میں وہی زور زور سے اپنےبھائی کو آواز دینے لگی کہ مجھے بچاؤلیکن اتنی دیر میں وہ مجھے دوبارہ قابو کر چکا تھا اس نے مجھے اٹھایا اور دوبارہ بستر پر لے آیا اور دست درازی کرنے لگا ۔ میرادل بیا جارہا تھا کہ اچانک مجھے اپنے پینے سے کی ہو میری بہن کو چھوڑو وہ گدا گر جو سمجھ رہا تھا کہ میں گھر پر اکیلی ہوں ۔ وہ یہ آواز سن کر گھبرا گیا اور مجھے چھوڑ کر میرے بھائی کوپڑنے کے لیے دوڑھالیکن بھاگ کر صحن میں سے ہوتا ہوا باہر کل چکا تھا گدا گرنے سوچا کہ شاید یہاں اور بھی لوگ موجود ہوں یا پھر شور سن کر محلے کے کر اس کو پکڑ لیں گے

تو وہ فور گھر لوگ اکٹھ نکل کر بھاگ گیا جب تک میر ابھائی محلے کے لوگوں کو لے کر آیاوہ گدا گر بھاگ کہ کہیں دور کل چکا تھا اس دن میں بہت بڑے سائے سےکی گئی تھی ۔ اگر میر ابھائی عین وقت پر شور سن کر جاگ نہ جاتا یا پھر بیچ میں اس سے خود کو چھڑانا پاتی تو اس دن جو میرے ساتھ ہونا تھا وہ میں سوچ کر ہی لرز جاتی ہو مجھے اور میرے والدین کو یہسبق ملا کہ کبھی بھی اکیلے بچوں کو گھر میں چھوڑ کر نہ جائے اور نہ ہی بچے کبھی کسی اجنبی کے لیے گھر کا دروازہ کھولیں ۔۔ !!!!

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.