میری اہلیہ نے مجھے دس سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بنایا

گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کی شکایات خواتین کی جانب سے آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک تہائی خواتین اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں شاذ و نادر ہی ایسا واقعہ سننے کو ملتا ہے جس میں کسی مرد پر جسمانی یا جنسی حملہ کیا گیا ہوتا ہے۔

مردوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات اور ان کے بارے میں بات کرنا معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس کے شکار مردوں کو اکثر اپنی مشکلات اکیلے ہی جھیلنی پڑتی ہیں۔

یوکرین سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے اپنی کہانی سنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے چند ماہرین سے بھی اس موضوع پر بات کی کہ اگر کسی مرد کے ساتھ ایسا ہو رہا ہو تو وہ کیا کرے

پہلا واقعہ
مجھے نہیں معلوم میرے دوستوں کو اس بات کا شک ہوا تھا یا نہیں۔ باہر سے دیکھنے میں تو ہر چیز اچھی لگ رہی تھی۔ مسکراتے چہرے، دوست احباب، بہت سارا پیسہ، خوشیاں اور پر اعتمادی۔ ہم نے تو آدھی دنیا کا سفر بھی ساتھ کیا تھا۔

جب ہم سفر کر رہے ہوتے تھے تو مجھے اس سے ڈر محسوس نہیں ہوتا تھا۔ وہ مجھے دوسروں کے سامنے تکلیف نہیں دیتی تھی۔ مگر سب سے ضروری تھا کہ میں اس کے ساتھ اکیلے ہونے سے خود کو بچاؤں۔

مجھے اتنے طویل عرصے کے بعد اب جا کر احساس ہوا ہے کہ میری سابقہ بیوی نے مجھے دس سال تک ریپ کیا۔

میری زندگی میں پہلی عورت ارا ہی تھی۔ ہم دونوں کی ملاقات اس وقت ہوئی جب ہم 20، 22 برس کے تھے۔ اس نے ہی میری طرف محبت کا پیغام بھیجا تھا۔

میرے والدین نے کہا تھا کہ تم اگر کسی کے ساتھ تعلق قائم کرو گے تو تمہیں گھر چھوڑنا ہوگا۔

اس کا مطلب تھا کہ اگر میں کسی کے ساتھ ہوتا ہوں تو مجھے اپنے خاندان سے دور ہونا پڑے گا اور اپنے سر سے چھت کھونی پڑے گی۔ گویا ایک دن کے اندر میں اپنا سب کچھ کھو دوں گا۔

یہ میرے لیے بہت پریشان کن بات تھی۔ میں کسی کے ساتھ صرف اسی وقت تعلق قائم کر سکتا تھا جب میں مالی طور پر الگ رہنے کے قابل ہو جاؤں۔

احساسِ کمتری
اس سے بھی بڑھ کر مسئلہ تھا کہ میری ماں کو میری جسمانی ہیت پر شرمندگی تھی اور اس کی وجہ سے میں سخت احساس کمتری کا شکار تھا۔

میں نے پہلی بار جنسی تعلق ارا کے ساتھ ہی قائم کیا اور میں ایسا کرنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ میرے لیے باعث تسکین نہیں تھا بلکہ جارحانہ اور تکلیف دہ تھا۔ جب ہم نے پہلی بار ہم بستری کی تو وہ پانچ گھنٹہ تک جاری رہا اور اس کے ختم ہونے پر میرے پورے جسم میں تکلیف تھی۔

سیکس کا مقصد ہوتا ہے تسکین حاصل کرنا لیکن میرے لیے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ مجھے کوئی تجربہ بھی نہیں تھا اور مجھے لگا کہ یہ بس ایسے ہی ہوتا ہے تو میں نے بھی منع بھی نہیں کیا۔

لیکن پھر ایک وقت آیا جب میں نے منع کرنا شروع کیا، مگر وہ پھر بھی نہیں رکی۔ یہ وہ موقع تھا جب ہمارا تعلق ریپ میں بدل گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.