پولیس نے چادراور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا

پولیس نے چادراور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا

پپلاں پولیس کی طرف سے تحصیل باونژری پرواقع گائوں یاری والا تحصیل کلور کوٹ میں چادر, چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اپنے تھانہ کی حدود سے باہر رات 12بجے گھرمیں گھس کرخواتین پرتشدد کرنے اور بغیرکسی درخواست یا مقدمہ کے غریب شہریوں کو گرفتارکرنے اور تشددکرنے پرمتاثرہ فریق میڈیا کے سامنے سراپااحتجاج۔ وزیراعلی پنجاب میاں حمزہ شہباز انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے پولیس کے خلاف کاروائی کی اپیل۔عدالت میں بھی پولیس کے خلاف رٹ دایر۔نواحی گائوں یاری والا تحصیل کلورکوٹ کے رہایشی شہری محمد عمران ولد محمد رمضان مسلم شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ انہوں نے ایس ایچ او پپلاں سب انسپکٹر محمد طارق گوندل اور ASI وسیم اکبر خان انچارج سی آئی اور تین نامعلوم پولیس ملازمان کے خلاف ایڈیشنل انسپکٹر جنرل(ڈسپلن)پنجاب پولیس کو کاروائی کے لیے ایک درخواست دے دی۔اس نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ وہ پڑھا لکھا اور شریف شہری ہے اورنجی سکول میں ٹیچر ہے اپنی فیملی کے ہمراہ رات کو اپنے گھر میں موجود تھا کہ مورخہ 19اپریل رات بارہ بجے تھانہ پپلاں کے مزکورہ پولیس افسران اورملازمان بغیرکسی وارنٹ یا زنانہ پولیس کے چادراورچار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہویے اپنے تھانہ کی حدود سے باہرہمارے گھر میں زبردستی گھس گیے اور میری والدہ مسماۃ افرانہ بی بی اور میری بھابھی شگفتہ زوجہ شہزاد کوتشدد کا نشانہ بنایا اورانکے کپڑے پھاڑدییے

جبکہ مجھے اورمیرے بھائیوں محمد عمران, محمدرضوان, محمد بلال اورشہزادکو پکڑ کر زبردستی سرکاری گاڑی میں بٹھا کر لے گئے اورمسلسل دو دن تک ہم پرتشدد کرتے رہے اوررقم کا تقاضہ کرتے رہے۔ہمارے حقیقی والد اورچچا گل جہان نے کچھ معززین علاقہ کے ہمراہ پولیس کی منت سماجت کی کہ ہمارے خلاف کسی بھی تھانہ میں کوئی ایف آئی آردرج نہیں نہ ہم نے کویی جرم کیا ہے تو کس جرم میں ہمیں بے گناہ پکڑ کرحبس بے جا میں رکھا ہوا ہے تو ایس ایچ او پپلاں محمد طارق گوندل اور اے ایس آیی سی آیی اے وسیم اکبرخان نے ان سے سادہ کاغذ پردستخط کروا کے ہماری جان چھوڑی اور یہ شرط رکھی کہ وہ انکے خلاف کسی قسم کی کویی قانونی یا محکمانہ کاروایی نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے مقامی زمیندار کی ایما پرہمیں ناجایزتشدد کا نشانہ بنایا اورغیر قانونی حبس بیجا میں رکھا ہمارا قصوراتنا ہے کہ ہم مسلم شیخ ہیں

اورہمارے والد نے محنت مزدوری کرکے ہم سب کو پڑھا لکھا کراچھی تعلیم دلوایی ہم کسی وڈیرے کی غلامی اوراجارہ داری کو تسلیم نہیں کرتے اوراس گاوں کے مقامی زمیندار پٹھان ہیں جو ہم جیسے لوگوں کوکمتر حقیراور غلام سمجھتے ہیں محمد عمران نے وزیراعلی پنجاب اور آیی جی پولیس پنجاب سیاپیل کی کہ اپنے عہدہ اختیار اوروردی کا ناجایز استعمال کرکے ہمارے خلاف اس طرح غیر قانونی طور پر کاروایی کرنے والے پپلاں پولیس افسران اور ملازمان کے خلاف پولیس آرڈر 2002 اورپیڈا ایکٹ کی کاروایی کی جائے اورانکو فوری معطل کرکے واقعہ کی تحقیقات کی جائے اورہمیں انصاف اورتحفظ فراہم کیا جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.