لاہورکی ایک بیگم صاحبہ نےایک کھیرا 800میں خریدا ، مگر کیوں؟ بڑے لوگوں کے چند انوکھے واقعات آپ کو حیران کر ڈالیں گے

این این ایس نیوز! یہ بات مجھے ایک عینی شاہد نے بتائی- یقین کرنا بہت مشکل ہے مگر اس ملک میں سب کچھ عین ممکن ہے وزیرآباد کی رہائشی ایک

سرکاری آفیسر کی اہلیہ اپنے شوہر کی تعیناتی کی وجہ سے بہاولپور میں مقیم تھیں۔ مذکورہ خاتون ہر ماہ اپنے والدین سے ملنے وزیر آباد آتیں اور چند دن قیام فرمایا کرتیں۔

بچے ابھی چھوٹے تھے لہذا سکول داخل نہیں ہوئے تھے چنانچہ ان کا قیام اکثر طویل ہو ہی جایا کرتا تھا۔ مذکورہ بیگم صاحبہ دو گاڑیوں میں سفر کرتی تھیں ایک گاڑی میں وہ خود اور انکے دو بچے جبکہ دوسری گاڑی کی ڈگی میں پٹرول سے بھرے چھ عدد کین اور سیٹوں پر سامان ہوتا تھا۔ ڈرائیور کے ہمراہ اس گاڑی میں ایک

ملازم بھی ہوتا تھا جبکہ بیگم صاحبہ کی گاڑی میں اگلی سیٹ پر ملازمہ۔ اگر ان کا قیام طویل ہوتا اور وہ اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ تفریحی مقامات یا رشتے داروں کے ہاں یاترا پر جاتیں تو ڈرائیور وزیر آباد سے بہاولپور جا کر پٹرول کے کین بھروا لاتا۔ انکے تمام سفر کے دوران صاحب کا پرسنل سٹاف آن کال ہی رہتا کہ جہاں بھی انہوں نے پڑائو کرنا اور جو بھی کھانا ہو اس کی ادائیگی آن لان یا پھر ایزی پیسہ کے ذریعے بہاولپور ہی سے ہونی ہے۔ پھر یہ ادائیگی چند ہی منٹ میں ہو بھی جایا کرتی تھی۔ میں کسی ایک کو نہیں درجنوں ایسے افسران کو جانتا ہوں جس کے زیراستعمال تین سے زائد سرکاری گاڑیاں اور ڈرائیور ہیں کم از کم دو گاڑیاں تو صاحب بہادر کے زیراستعمال ہوتی ہی ہیں، پھر ایک ادھ گاڑی پٹرول بمعہ ڈرائیور بوڑھے والدین کی خدمت کے لئے اور سرکار پر بوجھ اس طرح کے انھے واہ افسران کے ’’سسرائیل‘‘ بھی تو اسرائیل کی طرح ہر حوالے سے اہم ہوتے ہیں۔

لہٰذا ایک گاڑی انہیں بھی درکار ہوتی ہے لہذا چار تو ہو گئیں۔ جن محکموں کے پاس پٹرول کا اپنا سٹوریج ہو ان کے افسران کے تو وارے نیارے ہیں۔ یہ سب ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں ہر پیدا ہونیوالا بچہ مقروض ہے اور جس کی شاہرات‘ ائرپورٹس اور دیگر اثاثہ جات بھی گروی ہیں ملتان کے مال پلازہ میں میرے ایک جاننے والے موبائل فون کا کاروبار کرتے تھے اب وہ موبائل امپورٹ کی طرف چلے گئے ہیں وہ بتایا کرتے تھے کہ ملتان میں تعینات افسران کے گھروں میں کتنے قیمتی موبائل جاتے ہیں اور کون کون سے آفیسر ہر ماہ تین چار انتہائی قیمتی ڈبہ پیک موبائل فروخت کیلئے انہی کے پاس بھجواتے ہیں۔ اسی قسم کی صورتحال چند صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران کے ہاں بھی ہے۔ ایک صوبائی وزیر دو بیویوں والے بھی ہوا کرتے تھے لہٰذا دونوں کیلئے علیحدہ علیحدہ سرکاری گاڑیاں اور عملہ ہوتا تھا پھر دونوں اس بات کی ٹوہ میں رہا کرتی تھیں کہ کہیں دوسری کی مراعات زیادہ تو نہیں۔ اگر ایک کی گاڑی میں نئے ٹائر ڈالے جاتے ہیں تو دوسری کی گاڑی کیلئے بھی نئے ٹائرز کی ڈیمانڈ آجاتی تھی اور ڈرائیور حضرات دو طرفہ مخبری کے ذریعے اپنی “روزی روٹی” کا اضافی سامان پیدا کر لیتے تھے۔

آج سے کئی سال پہلے ایک صوبائی وزیر نے لاہورکے تھانہ شاد باغ میں کوئی راز فاش کرنے پر اپنے ڈرائیور پر اتنا زدوکوب کرایا تھا کہ مذکورہ ڈرائیور آج تک صحت یاب نہیں ہو سکا۔ میں نام نہیں لکھنا چاہتا کیونکہ ظلم ڈھانے والے کو اللہ تعالیٰ نے کئی سال قبل اپنے ہی پاس بلا لیا تھا۔ مذکورہ بااثر اور بارسوخ جوان نے سٹور سے دو کلو ردی چوری کرنے پر اپنے معمولی ملازم پر کئی گھنٹے زدوکوب کیا اور کرایا جس سے مذکورہ ملازم کی پسلیاں ٹوٹ گئیں‘ گردوں میں انفیکشن ہو گئی اور حالت غیر ہو گئی پھر اس کے بہت سے ماتحت ملازمین نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مذکورہ معمولی ملازم علاج کیلئے لاہور کی سڑکوں پر کئی ماہ تک باقاعدہ بھیک مانگتا رہا اور اسی حالت میں فوت ہوا مگر اللہ پاک کا انصاف دیکھیں کہ اس پر ظلم کرنے اور پھر کروانے والا اس کے فوت ہونے سے قبل ہی دل کے ہاتھوں شکست کھا کر دنیا سے چلا گیا۔ تکلیف دہ امر یہ تھا کہ سٹور سے دو کلو ردی چوری کرنیوالا صرف 3 ہزار پر ملازم تھا اور اسے ظلم کا نشانہ بنانے والا ‘دھونس اور بدعنوانی کی کمائی سے کروڑپتی بنا تھا۔ آج تو 27 لاکھ روپے کوئی رقم ہی نہیں مگر آج سے 25 سال پہلے یہ بہت بڑی رقم تھی۔ کوئی یقین کر سکتا ہے تو کر لے کہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے ضلع میں تعینات ایک ڈپٹی کمشنر نے اپنی سرکاری رہائش گاہ میں ہالینڈ سے منگوا کر کوئی ایسا خاص پینٹ کروایا تھا۔

جس پر مکھی اور مچھر کم از کم 2 سال تک بیٹھ نہیں سکتے تھے وہ گھر جب مرمتوں اور پینٹ کے بعد مکمل ہوا تو بلدیہ کے ایک آفیسر نے اس کالم نگار کو بتایا کہ پینٹ کا کام مکمل ہونے کے بعد وہ محض ایک ہفتہ ہی وہاں ڈپٹی کمشنر رہ سکے اور او ایس ڈی او بن کر چلے گئے۔ ایسی ہزاروں داستانیں ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ میرا ایک دوست آجکل ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہے مجھے پتہ ہے کہ اس کالم کو پڑھ کر پھر اس کا موڈ خراب ہو گا، فون کرے گا، برا بھلا کہے گا اور پھر طویل بحث کریگا وہ تو ہے بھی دلیل کا آدمی۔ میں اسے کہتا ہوں کہ اگر وہ وکیل ہوتا تو کمال کا وکیل ہوتا۔ آج مجھے اس کالم کے بعد لازمی طور پر اس کا فون آئیگا، پہلے غصہ پھر ڈانٹ مگر آخر میں میرا وہ تبخیری یار یہ ضرور کہے گا۔ میاں توں بندہ تے ٹھیک نہیں پر لکھدا ٹھیک ایں۔ “تم بندے ٹھیک نہیں ہو مگر لکھتے ٹھیک ہو” پھو وہ کہے گا، ہاں یار ہے تو ایسا ہی۔ تمہارا ایک ایک حرف سچ ہے ابھی تم نے کم لکھا ابتری اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جو میں جانتا ہوں تم نہیں، یہ بیگمات حقیقت میں بے قابو ہو چکی ہیں۔ مگر کیا تم نے اصلاح کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ اس کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کا سسٹم ہی بدعنوانی اور دھونس پر کھڑا ہے۔ بدتمیزی ہمارا قومی تعارف ہے اور ہم سب کو اس پر کوئی شرمندگی بھی نہیں۔ آج پھر سے میں اس کی کال کا منتظر ہوں۔

اور ویسے بھی اگر ساڑھے سات لاکھ کی باتھ روم کی ٹونٹی ہو سکتی ہے تو پھر 800 روپے کا کھیرا بھی لازمی ہو سکتا ہے۔ ہوا یوں کہ رائے ونڈ روڈ پر لاہور سے دور اور رائے ونڈ کے نزدیک ایک بہت خوبصورت رہائشی کالونی کے ایک عالیشان گھر کی مکین خاتون خانہ اپنے شوہر کے ڈبل کیبن سرکاری ڈالے پر اپنی بہن سے ملنے ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹی کے فیز سیون کے قریب واقع اس کے گھر گئی واپسی پر انہوں نے بہن کے ہمراہ مارکیٹ سے سبزی اور دیگر سامان خریدا۔ بہن کو اس کے گھر اتارا اور ڈرائیور کو واپس اپنے گھر چلنے کا حکم دیا۔ تقریباً 40 منٹ کی مسافت کے بعد وہ اپنے گھر پہنچ گئیں اور انہوں نے سبزی کے شاپر کھولے تو یہ دیکھ کر سیخ پا ہو گئیں کہ ایک کلو کھیروں میں سے ایک کھیرا خراب اور باسی تھا۔ ڈرائیور کو حکم دیا کہ اس دکاندار کو نہ صرف کھیرا واپس کر کے آئے بلکہ ڈانٹ کر آئے۔ ڈرائیور نے وہی ڈبل کیبن ڈالا نکالا اور رائے ونڈ روڈ کی مذکورہ رہائشی سوسائٹی سے ڈیفنس جا کر کھیرا بدلویا اور واپس آیا۔ میں نے سیدھا سا حساب کیا اور ڈبل کیبن ڈالے کی پٹرول خرچ کرنے کی اوسط کو سامنے رکھا پھر مذکورہ کالونی سے ڈیفنس کے مذکورہ علاقے کے سفر کا اندازہ لگایا تو میرے حساب کتاب نے مجھے یہ بتایا کہ مذکورہ بیگم صاحبہ کو وہ کھیرا کم از کم 800 روپے میں پڑا ہو گا۔ بشکریہ نامور کالم نگار میاں غفار احمد ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.