وہ ڈاکٹر مسیحا بنی اور پھر کیا معجزہ ہوا؟

زندگی موت تو اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے لیکن اس دنیا میں اللہ پاک کے بعد ڈاکٹر ہی وہ ہستی ہوتی ہے جو کسی کی جان بچا سکتی ہے بالکل کچھ اس ہی طرح کا ایک واقعہ بھارت کے شہر آگرہ کے ایک کمیونٹی سینٹر میں پیش آیا۔جہاں ایک نومولود بچے کو پیدائشی طور پر سانس لینے میں بہت تکلیف ہو ر ہی تھی تو کمیونٹی سینٹر کے عملے نے مشینوں کے زریعے سے سانس دینے کی کوشش کی مگر وہ ناکام ہو گئے اور بچہ سانس لینا بند کرتا جا رہا تھا۔ایسی صورتحال میں ڈاکٹر سوریکھا اللہ پا ک کا بھیجا ہوا مسیحا بن کر سامنے آئیں اور بچے کو اپنی گود میں اٹھا کر اسے اپنے منہ سے سانس دینے میں مصروف ہو گئیں بقول ان کے انہوں نے یہ عمل 7 منٹ تک جاری رکھا

تو وہ بچہ جو مشینوں سے سانس نہیں لے رہا تھا وہ خود سے ساسن لینے لگا جس کے بعد بچے کی ماں کی جان میں جان آئی اور پھر مسکرا دی، اور اب بچے کی والدہ سمجھتیں ہیں کہ ایک معجزہ ہے۔یہی نہیں اس وت بھی ڈاکٹر سوریکھا نے پوری تسلی کی اور بچے کو جب تھوڑی سانس خود سے آئی تو بھی انہوں نے ایک مرتبہ اسے کمیونٹی سینٹر کے بیڈ پر لٹا کر اسی طریقے سے سانس دیا اور مکمل طریقے سے بچہ پھر سانس لینے لگا۔اس خاتون ڈاکٹر کے مطابق یہ ایک پرانا طریقہ علاج ہے جو صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم دیتے ہیں۔واضح رہے

کہ یہ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد خاتون ڈاکٹر سوریکھا کی ہر جگہ تعریفیں ہو رہی ہیں اور کئی لوگ تو انہیں اب انہیں دنیا کی بہترین ڈاکٹر سمجھ رہے ہیں تو کوئی انہیں معجزے والی ڈاکٹر کے نام سے یاد رکھے ہوئے ہے۔اس ویڈیو نے آتے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ارو اب تک اسے 340 ہزار لوگ دیکھ چکے ہیں، 161 لوگ اس پر اپنی رائے دے چکے ہیں اور، 5 ہزار سے زائد لوگ اس ویڈیو کو پسند بھی کر چکے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.