اسلام آباد کی وہ انتہائی خوبصورت ترین لڑکی جس کا صرف ایک وجہ سے رشتہ نہیں ہو رہاایک تحریر جو آپ کو حیران کردے گی

این این نیوز! نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹے والوں کو حق حاصل ہے کہ اپنی مرضی کا رشتہ جہاں چاہیں مانگیں لیکن اُنہیں کیا یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ بیٹی والوں کی توہین کریں، جو ہمارے ہاں ایک عام رواج بن چکا؟ ایک کے بعد ایک رشتہ دیکھنے جاتے ہیں

توقع کرتے ہیں کہ دوسروں کی بیٹیوں کو اُن کے سامنے پیش کیا جائے اور پھر وہ ایک کے بعد ایک کو دیکھ کر Reject کرتے ہیں اور عموماً وجوہات غیر ضروری اور بے کار ہوتی ہیں۔اکثر اپنے بیٹے کے بارے میں نہیں دیکھا جاتا کہ وہ کتنے پانی میں ہے لیکن دوسروں کی بیٹیوں کی اپنے سامنے پیشیاں کرا کے اس تلاش میں ہوتے ہیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے کے لیے کوئی شہزادی مل جائے۔اگر لڑکی پسند آ جائے تو دیکھتے ہیں کہ فیملی پیسے والی ہے یا نہیں، گھر اپنا ہے کہ نہیں، لڑکی کے والد کا عہدہ کیسا ہے اور پھر انہی وجوہات اور ایسی ہی بے ہودہ ترجیحات کی بنا پر اچھے اچھے رشتے Reject کر کے آگے سے آگے چلتے جاتے ہیں۔میں ایسی فیملیوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹوں کے لیے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ درجنوں لڑکیاں دیکھیں اور آخر کار کسی ایک بیٹی کو اپنے لڑکے کے لیے پسند کیا۔میری نظر میں یہ بیٹیوں کے توہین کا رواج، یہ اُن کے والدین کی توہین کا سلسلہ ہے، یہ انسانیت کی تذلیل کا ایکرخ ہے جسے نہ بُرا جانا جاتا ہے نہ ہی اس پر کوئی اعتراض ہوتا ہے۔ یہ جو سلسلہ یا رواج چل نکلا ہے، اس کا تعلق اکثریت سے ہے۔ اچھے لوگ بھی ہیں جو دوسروں کی بیٹیوں اور دوسرے خاندانوں کی عزت کا خیال رکھتے ہیں۔ حال ہی میں ایک جوان بیٹی کی ماں کا مجھے پیغام ملا۔اُس ماں کا دکھ یہ تھا کہ رشتہ دیکھنے کے نام پر اُن کی تذلیل تو نہ کی جائے، سب کچھ اچھا لگے تو پوچھتے ہیں کہ گھر اپنا ہے کہ کرائے کا۔ بعض تویہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ اگر ہم نے رشتہ کر لیا تو لڑکے کو سسرال والے کوئی نوکری بھی دلوا سکتے ہیں۔ اس ماں کا روتے ہوے کہنا تھا کہ اب تو کوئی رشتے کی بات کرتا ہے یا بیٹی کو دیکھنے کے لیے گھر آنے کی اجازت مانگتا ہے تو ڈر لگتا ہے،

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.