خواجہ سرا ’’بلی ‘‘ اور ’’سمرن‘‘ تبلیغی جماعت کے ابوہریرہ اور شہباز بن گئے

اس معاشرے میں خواجہ سراؤں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن یہ بھی انسان ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات جس کو چاہے راہ حق دکھا دے،ان خیالات کا اظہار خواجہ سراء کمیونٹی کو چھوڑ کر دین کی جانب راغب ہونے والے ابو ہریرہ اور شہباز نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ابوہریرہ نے بتایاکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور راہ حق اختیار کی ، ڈاڑھی رکھ لی اور وہ اپنے تبلیغی گروہ کا امیر ہے ۔ ابوہریرہ نے بتایاکہ شروع میں ناچ گانے کی دنیا میں وہ بہت دور نکل گیا تھا۔اس کی کمیونٹی کے جوگ اسے ’’بلی‘‘ کہہ کر پکارتے تھیجبکہ اس کا اصل نام نام محمد شہزاد ہے۔اسی دوران میری ملاقات مولاناطارق جمیل سے ہوئی تو میرے ساتھ دوست نے میرا تعارف کرایا کہ اس کا نام بلی ہے

جس پر مولانا نے کہا کہ نام بلی نہیں بلکہ ابوہریرہ یعنی ’بلیوں کا باپ‘ ہوناچاہیے ۔ ابوہریرہ نے بتایا کہ بچپن میں خواجہ سراؤں والی حرکات کی وجہ سے اہل خانہ نے اسے گھرسے نکال دیاتھا۔اسی طرح ابوہریرہ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر ایک اور خواجہ سرا سمرن نے متاثر ہو کر دین کی راہ اختیار کر لی اور اس نے اپنا نام شہباز رکھ لیا۔شہباز نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اہلخانہ خواجہ سراؤں کو گھر سے بے دخل کر دیتے ہیں اور وہ اپنے گرو کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن میں نے بری سوسائٹی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تو اس پر میرے اہل خانہ نے مجھے پھر سے گلے لگا لیا۔

شہبازنے بتایاکہ اس نے 16سال خواجہ سراؤں کیساتھ ضائع کیے اوراب وہ پانچ وقت کا نمازی ہے۔نماز پڑھنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایاکہ خواجہ سراؤں کو اہلخانہ اور محلے دار پسند نہیں کرتے کیونکہ ان کی عزت میں فرق پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے یہ راہ چھوڑ کر میں نے ڈاڑھی رکھ لی تو فیملی نے بھی گلے سے لگالیا،یہ سب دین ہی کی وجہ سے ہے کہ آج ہمیں دنیا دیکھ رہی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.