اس نے صبح شام گھر کا دروازہ پکڑ لیا اور پھررات کو۔۔نوکری کے لیے پشاور میں تنہا رہنا جوان لڑکی کے ساتھ

این این نیوز! یہ کہانی یسریٰ جبین نامی لڑکی نے بی بی سی اردو کے لیے تحریر کی ۔ مگر یہ کہانی تنہا یسریٰ کی کہانی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں کام کرنے والی تنہا خواتین کی مشترکہ کہانی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے

کہ یسریٰ نے اس کو بیان کرنے کی ہمت کر لی جب کہ باقی تمام خواتین اس کو خاموشی کے ساتھ برداشت کرنے پر مجبور ہوتی ہیں- کہانی کے مطابق یسریٰ جبین کا تعلق صحافت کے شعبے سے ہے اور وہ کراچی کی رہائشی ہیں ۔ گھر کے کچھ مسائل کے سبب نوکری کے سلسلے میں وہ کراچی میں پانچ سال تک تنہا رہتی آئیں مگر چونکہ وہ ان کا اپنا شہر تھا اس وجہ سے انہیں اس حوالے سے زيادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا- اس کے بعد ان کا تبادلہ اسلام آباد ہو گیا جہاں ان کی رہائش دو سال تک رہی اسی دوران جب ان کو ترقی کے ساتھ پشاور جا کر کام کرنے کی آفر ملی تو انہوں نے اس کو بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیا کیوں کہ ان کے نزدیک پشاور بھی کراچی اور اسلام آباد کی طرح پاکستان کا ایک شہر تھا اور ان کو امید تھی کہ وہ وہاں بھی ایڈجسٹ کر لیں گی-

مگر وہاں ان کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ ان کے لیے بہت ہی حیران کن ثابت ہوئے جس کی وجہ سے ان کو یہ تمام مسائل قلم زد کرنے پڑے جن کا سامنا کسی بھی تنہا عورت کو پشاور جیسے شہر میں کرنا پڑ سکتا ہے- یسریٰ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ جس کا سامنا ان کو کرنا پڑا وہ ان کی پشتو زبان سے نا آشنائی تھی پشتو پشاور کی مقامی زبان تھی جس سے وہ بالکل نا بلد تھیں اس کے بعد لوگوں کی باتیں کہ پشاور ایک بہت قدامت پرست لوگوں کا شہر ہے جہاں تنہا لڑکی کا رہنا سخت معیوب سمجھا جاتا ہے- یسریٰ کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے کسی حد تک خوفزدہ ضرور تھیں مگر ان کو امید تھی کہ وہ ان تمام مشکلات پر قابو پا لیں گی- سب سے بڑا مسئلہ رہائش کا انتظام تھا

کیوں کہ عارضی طور پر رہائش کے لیے گیسٹ ہاو‎س موجود تھے مگر ان کا ایک رات کا کرایہ تین ہزار تھا جو کہ مستقل رہائش کے لیے بہت مہنگا تھا اس وجہ سے انہوں نے وومن ہاسٹل کی تلاش شروع کر دی- ان کو پتہ چلا کہ وومن ہاسٹل میں رہائش کے اخراجات ایک مہینے کے لیے چار ہزار تک ہیں جو انتہائی مناسب تھے- مگر جب ان کا جائزہ لیا تو ان کو پتہ چلا کہ ہاسٹل کا ایک کمرے کا سائز بالکل جوتے کے ڈبہ جیسا ہوتا جس میں کمرہ ایک اور لڑکی کے ساتھ شئير کرنا ہوتا جہاں نہ تو صفائی کا کوئی انتظام ہوتا نہ ہی کوئی فرنیچر کا، بستر کے نام پر ایک میلا گدا ملتا اور سخت گرمی میں کسی اے سی کا انتظام تک نہ ہوتا- کمرہ اگر بڑا ہوتا تو چھ سے سات لڑکیاں اس کو شئير کرتیں جہاں ان سب کے لیے ایک ہی باتھ روم ہوتا ۔ اس کے علاوہ اگر اکیلے کمرے کی ڈیمانڈ کی جاتی تو اس کا کرایہ تین گنا زيادہ ہوتا اس کے بعد لوگوں کے مطابق ان ہاسٹلز میں لڑکیوں کی سیکیورٹی کا انتظام بہت ناقص ہوتا جس کی وجہ سے آئے دن واقعات ہوتے رہتے-

مگر جب بلڈنگ انتظامیہ کو پشاور کے کچھ جاننے والوں سے فون کروایا تو ان کے رویے میں کسی حد تک تبدیلی آئی اور ان کی جانب سے ہراسانی سے جان چھٹی۔ تو ایک اور کہانی شروع ہو گئی ۔ غلطی سے فلیٹ کے خراب سوئچ بورڈ کو ٹھیک کروانے کے لیے ایک پڑوسی سے مدد مانگی تو اس نے صبح شام گھر کا دروازہ پکڑ لیا اس کو شٹ اپ کال دے کر بڑی مشکل سے جان چھڑائی-

 یسریٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پشاور جیسے شہر میں تنہا لڑکی کا گھر سے خریداری کے لیے نکلنا بھی کسی عذاب سے کم نہ ہوتا کوئی تنہا دیکھ کر آوازے کستا تو کوئی ہاتھ لگانے سے بھی دریغ نہ کرتا۔ ورنہ نظروں کے تیروں سے شگاف ڈالنا تو وہاں کے مردوں کا شیوہ ہی تھا- مگر اس کے ساتھ ساتھ یسریٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان تمام مشکلات کے ساتھ انہیں پشاور میں بہت مہمان نواز اور محبت کرنے والے لوگ بھی ملے جو عزت کرتے تھے اور بہت پیار بھی دیتے تھے- مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ ماننا تھا کہ پشاور میں ایک تنہا عورت کا زندگی گزارنا کسی لانجے (پشاور کی زبان میں کسی مشکل سے ) کم نہ تھا –

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.