بخار تھا لیکن ڈاکٹرز بچی کو وینٹی لیٹر تک لے آئے ۔۔ کراچی کے 2 مشہور اسپتال جنہوں نے ایک باپ سے لاکھوں روپے بٹورے مگر بچی کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا؟

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ اللہ پاک کسی کو اولاد کا دکھ نہ دے کیونکہ ایک باپ خود پر تو ہر قسم کی سختی برداشت کر لیتا ہے مگر اپنی اولاد کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو چیخ اٹھتا ہے۔

بلکل اسی قسم ایک واقعہ سندھ کے شہر جام شورو کے رہائشی پرویز احمد لانگا کے ساتھ پیش آیا ہے جس کی بچی کو ایک معمولی سا ٹائیفائیڈ بخار ہوامگر ایسا نہ ہوا اور عرج نور نامی اس بچی کی طبعیت بگڑتی گئی جس پر والد سے رہا نہ گیا اور دوبارہ آغا خان حیدر آباد لے کر آئے تو ڈاکٹرز نے کہا یہ کیس اب آپ کراچی آغا خان لے جائیں وہاں ہی علاج اب ممکن ہے۔

پھر والد کو ایک بہتری کی امید نظر آئی تو یہ کراچی آغا خان بچی کو ساتھ لیے پہنچ گئے وہاں بھی بچی کو کچھ گھنٹے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور کہا کہ اب آپ کو لیاقت نیشنل بھیجا جا رہا ہے کیونکہ ہماری پہنچ سے باہر یہ کیس۔

اب جب پوری دنیا پیچھے ہٹتی جا رہی تھی تو ایک والد اپنی اولاد کو مشکل میں کیسے اکیلا چھوڑ سکتا تھا۔ یہ پھر کراچی لیاقت نیشنل پہنچے۔

تو لیاقت نیشنل میں بھی یہی کچھ ہوا بچی کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا، ناک میں ایک نالی لگا دی گئی اور گلا کاٹ کر ایک پائپ نما نالی مزید بچی کی گردن میں لگا دی گئی جس سے بچی سانس لیتی رہی اور اپنی زندگی کے باقی دن گزارتی رہی۔

بقول بچی کے والد کے کہ لیاقت نیشنل اسپتال والوں نے 24 لاکھ روپے کا بل بنا دیا۔

جسے بچی کے والد نے بچی کی والدہ، دادی اور اپنی سالی، کا زیور بیچ کر ادا کیا۔ ایک مجبور باپ کا کہنا تھا کہ پورے پیسے دے دینے کے بعد بھی بچی کو ٹھیک نہیں کیا گیا۔

اور کہا گیا آپ جاؤ یہاں سے آپکی بچی اب مسلسل ” ہوم وینٹی لیٹر” پر جائے گی۔ اس ہوم وینٹی لیٹر کا خرچہ ایک ماہ کا 5 لاکھ روپے ہیں جو کہ ایک مزدور آدمی کبھی ادا نہیں کر سکتا۔

اس دردناک واقعے پر بچی کے والد پرویز احمد لانگا کا کہنا ہے کہ میں سعودی عرب میں کام کرتا تھا بچی کی طبعیت کا سن کر پاکستان آیا اور میرے جتنے بھی اثاثے تھے بچی کے علاج پر لگا چکا ہوںتو ہوم وینٹی لیٹر کا ماہانہ خرچ کہاں سے دوں اور اب تو وہ حالات ہو گئے ہیں کہ پیسے نہ دیے تو یہ ہوم وینٹی لیٹر سروس دینے والے اپنا سارا سامان لے جائیں گے۔

اور میری بچی مر جائے گی تو اس کا زمےدار کون ہوگا؟ کیا آغا خان اور لیاقت نیشنل اسپتال والے میری بچی کو واپس لا دیں گے۔

اب اس مجبور والد کی اپنے تمام پاکستانی بھائیوں سے درخوات سے کہ کسی اچھے سے اسپتال سے اسکی بچی کا علاج کروادیں اور اسکی ہر ممکن مدد بھی کریں۔ اس مجبور باپ کی مدد کرنے کیلئے جو بھی حضرات رابطہ کرنا چاہتے ہوں،اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

آخر میں آپکو یہ بھی بتانا چاہیں گے پرویز احمد لانگا کا کہنا ہے کہ ان اسپتالوں میں زلیل و خوار ہونے سے پہلے میری بچی بھی دوسرے بچوں کی طرح ہنستی کھیلتی تھی اور اسکی وجہ سے پورے گھر میں رونق رہتی تھی مگر اب وہی گھر اس کی آواز سننے کو ترستا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.