لوگوں کی منتیں ترلے کرتے کرتے جب تھک گیا تو اللہ سے لو لگائی تو ہوم میڈ بریانی کا راستہ کھلا، اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کے حوصلوں کی مثالی داستان

کرونا وائرس نے پوری دنیا کو صحت کے حوالے سے نہ صرف اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے بلکہ اس نے معاشی مسائل کا بھی ایک ایسا طوفان بپا کر رکھا ہے جس کے سبب بہت سارے ہنر مند اور پڑھے لکھے افراد بھی بے روزگار ہو گئے-

ان حالات میں کامیاب وہی افراد ہو سکے جنہوں نے خود کو ان بدلتے ہوئے حالات میں تبدیل کیا اور روزگار کے لیے نئے طریقے ڈھونڈے اور ان کو اپنا کر اس کشمکش کے دور میں حلال روزگار کمانے کی جدوجہد کی-

ایسے ہی ایک انسان لمز اور کینیڈا کی میگل یونی ورسٹی سے انٹر پرائز مینجمنٹ کی ٹریننگ حاصل کرنے والے اور تدریس کے شعبے میں منسلک محمد عمر کمال بھی ہیں جو کہ ایک موٹیوشنل اسپیکر اور فنڈ ریزنگ کے لیے مختلف اداروں کو خدمات فراہم کرتے تھے۔ ماتھے پر محراب کے نشان والے پرنور شکل والے عمر کمال کو دیکھ کر دل خود بخود اس انسان کے احترام پر مجبور ہو جاتا ہے-

کرونا کے حالات کے سبب بے روزگار ہونے کے سبب شدید مشکلات کا شکار تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے روزگار کے حصول کے لیے دنیا کے لوگوں کی بہت منت ترلے کیے ہیں مگر وہ غلط تھے کہ انہوں نے اللہ کے بجائے اللہ کے بندوں سے لو لگائی۔ آنکھوں میں آنسو بھر عمر کمال صاحب کا یہ کہنا تھا کہ جب انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ رزق کا وعدہ تو اللہ نے کیا تھا وہ بندوں سے مانگ کر گناہ گار ہو رہے ہیں-

یہ محسوس ہونے کے بعد تین ماہ تک انہوں نے رو رو کر اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کرنی شروع کر دی۔ تین ماہ کے بعد انہیں اپنے اندر ایک روشنی محسوس ہوئی۔ اور انہیں لگا کہ ان کی توبہ قبول ہو گئي ہے اور ان کو بارگاہ خداوندی سے کہا گیا کہ اب جو بھی اللہ سے مانگنی ہے مانگ لو-

چار سال کی بے روزگاری اور نوکری کی تلاش کے بعد انہوں نے اور ان کی بیوی نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ایک ایسا کام شروع کیا جائے جو کہ اپنے بل بوتے پر شروع کیا جائے ۔ اس میں کسی دوسرے پر انحصار نہ ہو ان کی بیگم لبنیٰ جو کہ خود بھی تدریس کے شعبے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر شیف بھی تھیں انہوں نے گھر پر بریانی بنا کر بیچنے کا مشورہ دیا-

عمر کمال صاحب کا کہنا تھا کہ ان کی بیگم نے ان کو بریانی بنا کر ڈبوں میں پیک کر کے بیچنے کے لیے دے دی۔ شروع میں پندرہ ڈبے بنا کر جب وہ بیچنے کے لیے گئے تو یہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ تھا کہ وہ کس طرح آواز لگا کر بریانی بیچنا شروع کریں-

مگر پھر ان کے اندر موجود عمر کمال نے ان کو ایک چپیڑ لگائی کہ ابھی تو تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر اور دنیا کے لوگوں کو چھوڑ کر صحیح جگہ پر پہنچے ہو اور ایک بار پھر راستے سے بھٹک رہے ہو-
اس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ گاڑی سے دوبارہ نکلا اور اس کے بعد سے آج تک ہوم میڈ بریانی ہوم میڈ بریانی کی آواز لگانی بند نہیں کی-

اس حوالے سے ان کی تعلیم یافتہ بیوی لبنیٰ کا یہ کہنا تھا کہ شروع میں ان کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ عمر بریانی بیچنے کے بجائے اللہ واسطے بانٹ آتے ہیں اور ان کو کہیں سے پیسے لے کر دے دیتے ہیں تاکہ وہ خوش ہو جائيں- مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ ان کو یہ یقین آتا گیا کہ واقعی ان کی بنائی گئی بریانی اسلام آباد کے لوگوں میں نہ صرف پسند کی جا رہی ہے بلکہ اس کی فروخت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے-

عمر کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا تھا کہ شروع کے کچھ دنوں میں جب بریانی نہیں بکتی تھی تو وہ واقعی ایسا ہی کرتے تھے کہ بریانی کو بھوکے لوگوں میں بانٹ کر دوست سے ادھار لے کر لبنیٰ کو پیسے دے دیا کرتے تھے-

اب ان کا ہوم میڈ بریانی کا کاروبار دن بدن ترقی کرتا جا رہا ہے اور ان کی بریانی اسلام آباد کے لوگوں کی پسند بنتی جا رہی ہے اس وجہ سے ان کا ارادہ ہے کہ وہ ہوم میڈ بریانی کا ایک ریستوران شروع کریں گے اور اپنے کاروبار کو ترقی دیں گے-

سچ ہے محنت میں کوئی عار نہیں ہے اور کوئی بھی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا ہے ۔ انسان کوشش کرے تو اللہ اس کوشش میں ضرور برکت ڈالتا ہے-

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.