بھائی مجھے بچالو یہ مجھے مار دے گا ۔۔ جانیے نور کی زندگی کے آخری چند گھنٹوں میں کیا ہوا؟ اندرونی کہانی

سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی کے بہیمانہ قتل میں پیش رفت تو بہت ہوئی ہے مگر نور اور ظاہر کی آخری وقت میں کیا بات ہوئی اور کن کن طریقوں سے ان کے آخری لمحات کو جانچا جا رہا ہے،اس پر آپ کو معلومات دیں گے۔نور اور ظاہر ویسے تو خاندانی دوست تھے، دونوں کی فیملیز برسوں سے ایک دوسرے کو جانتی تھیں۔ مگر کیا معلوم تھا کہ بچپن کا دوست ہی بیٹی کا قاتل بن جائے گا۔

نور اور ظاہر کا واقعہ بھی کسی ڈرامے کی کہانی کی طرح ہے۔ جس میں ایک لڑکا امیر زادہ ہوتا ہے اور لڑکی بے بس ہوتی ہے۔ جس طرح ایک ڈرامے میں امیر زادے کے گھر والے اپنے بیٹے کی ہر بری عادت پر پردہ ڈالتے ہیں بالکل اسی طرح اس واقعے میں بھی پیش آیا ہے۔ ظاہر کا برتاؤ بھی ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہے جو کہ اپنے آگے کسی کی نہیں سنتا تھا۔

ظاہر کے دوست کہتے ہیں کہ ظاہر ایک اکڑو، غصے والا شخص ہے، جو کہ صرف اپنی بات کو اہمیت دیتا ہے بلکہ دوسرے کسی کو نہیں سنتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف نور تھی جو کہ ظاہر کے جارحانہ انداز سے پریشان تھی۔لیکن صورتحال یہاں آکر تبدیل ہو جاتی ہے جب مختلف ذرائع سے خبریں آرہی تھیں۔کچھ خبریں یہ بھی گردش کر رہی ہیں کہ نور اور ظاہر صرف دوست ہی نہیں بلکہ دوست سے بڑھ کر تھے۔ جبکہ ان کے بریک اپ کی وجہ سے دونوں میں رنجشیں پیدا ہوئی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ظاہر نہیں چاہتا تھا کہ نور اسے چھوڑے۔جبکہ ایک خبر یہ بھی کہ ظاہر امریکہ پڑھائی کے لیے جا رہا تھا، اور نور اسے الوداع کہنے آئی تھی، لیکن ظاہر نے نور کو اپنے پاس قید کر لیا تھا۔

ان سب صورتحال میں تفتیش جاری ہے مگر جو خبریں آرہی ہیں ان کے مطابق ظاہر نے نور کا قتل اپنے ہوش و ہواس میں کیا۔قتل سے ایک دن پہلے کیا ہوا تھا؟نور کے والد کا کہنا ہے کہ قتل سے ایک دن پہلے میں قربانی کا جانور لینے چلا گیا اور نور کی والدہ درزی سے کپڑے لینے چلی گئی تھیں۔ جب ہم گھر پہنچے تو نور نہیں تھی۔ نور کو کئی کالز کیں مگر نور کا فون مسلسل بند جا رہا تھا۔ہم پریشان تھے کہ نور بنا بتائے کہیں جاتی نہیں تھی۔ لیکن کچھ دنوں سے نور کافی پریشان تھی، جیسے نور پر کوئی دباؤ ڈال رہا ہے۔ ہم رات تک کالیں کر رہے تھے، نور کے دوستوں کو کالز کیں، لیکن کسی کو کچھ علم نہیں تھا۔

پھر اچانک ظاہر کی کال آئی کہ نور میرے گھر نہیں ہے اور نہ ہی مجھے نور کا علم کا ہے۔ اس سب صورتحال میں ظاہر کو شک تھا کہ کہیں نور کے والدین کو علم نہ ہو جائے کہ نور میرے پاس آئی ہے۔جبکہ نور کے والد کا کہنا تھا کہ پہلی عید کو ہمیں خبر ملی کہ نور کا قتل ہو گیا ہے۔ اس خبر نے ہمارے پیروں تلے زمین نکال دی تھی۔

نور ظاہر کے گھر اکیلی نہیں تھی بلکہ ظاہر کی بہن بھی گھر پر موجود تھی۔ ظاہر نے نور کو دوسرے فلور پر قید کر رکھا تھا اور نیچے فلور پر بہن موجود تھی۔ البتہ والدین موجود نہیں تھے۔ظاہر نے نور کو بے حد اصرار کیا کہ وہ میری بات مان لے مگر نور ظاہر کے اس جارحانہ انداز سے خوفزدہ تھی۔ ظاہر ایک شکی مزاج اور انتہا کا منفی سوچ رکھنے والا شخص ہے۔یہی وجہ تھی کہ نور کے منع کرنے پر ظاہر نے چاکو کی مدد سے پہلے نور کے پیٹ میں چاقو مارا اور پھر زخمی نور کو نیچے آکر بڑے ہی آرام سے گلا کاٹا۔

نور اپنے آخری وقت میں کافی ڈری سہمی ہوئی تھی، وہ ظاہر کے خوفناک چہرے سے ڈر گئی تھی۔ نور اور ظاہر کے درمیان جھگڑا اس قدر پر تشدد تھا کہ ظاہر نے نور پر چاکو سے حملہ کر دیا تھا، نور نے جان بچانے کے لیے کمرے کی کھڑکی سے چھلانگ لگا دی تھی۔ نور جان بچانے کے لیے زخمی حالت میں گیٹ تک پہچنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔اس دوران نور نے گھر میں موجود گارڈ کو التجا کی کہ مجھے بچالو، ظاہر مجھے مار دے گا۔ خدارا میری مدد کرو۔ میں زخمی ہوں۔ لیکن کسی ایک شخص نے بھی جو گھر میں موجود تھا نور کی مدد نہ کی اور سب کے سامنے ظاہر نے چاکو سے نور کا گلا کاٹ دیا۔بے حسی یہ بھی تھی کہ گھر میں موجود ملازمین اور بہن نے قتل کے بعد ہولیس کو اطلاع دی، اگر شور شرابے کے وقت ہی اطلاع دے دی جاتی تو شاید آج نور زندہ ہوتی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.