عثمان مرزا کیس، عدالت نے چاروں ملزمان سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا

عثمان مرزا کیس، عدالت نے چاروں ملزمان سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا

وفاقی دارالحکومت کے علاقے ای الیون میں لڑکے ، لڑکی کو ہ راساں کرنے اور تش دد کرنے کے

کیس میں ملوث چاروں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ۔ اسلام آباد سیشن کورٹ میں

لڑکے ،لڑکی پر تش دد اور بلیک میلنگ کے کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران پولیس نے کیس کے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا ۔ ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔پولیس کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل

ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزمان کو 30 جولائی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔اس سے قبل پیشی میں اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے
عدالت کو بتایاتھا کہ ملزمان بھتے کی شکل میں متاثرہ لڑکے اور لڑکی سے حاصل کی جانے والی گیارہ لاکھ روپے کی رقم واپس دینے پر رضامند ہو گئے ہیں۔تفتیشی افسر کے بقول ملزمان نے یہ رقم متاثرہ جوڑے کو ڈرا دھمکا کر حاصل کی تھی کہ اگر انھوں نے پیسے نہ دیے تو ان کی یہ ویڈیو

سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ وقوعہ کے روز انھوں نے لڑکے اور لڑکی کو گاڑی کا کرایہ بھی دیا تھا۔عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ وہ ایک صاحب حیثیت آدمی ہیں اور ان کو اتنے کم پیسوں کی کیا ضرورت ہے۔جبکہ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ جوڑے سے ملزم ادارس بٹ نے ساڑھے چھ ہزار روپے چھینے تھے جو ملزم کے گھر سے برآمد کر لیے گئے ہیں جبکہ ملزم عثمان مرزا متاثرہ لڑکے کے گھر اپنا ایک بندہ بھیجتا تھا جو وہاں سے مختلف اوقات میں پیسے لے کر آتا تھا اور پھر ملزمان یہ رقم آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔تفتیشی افسر نے کہا کہ پولیس کو اس شخص کی گرفتاری مطلوب ہے جس کو متاثرہ لڑکے کے گھر پیسے لینے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔عدالت نے ملزم عثمان مرزا سے استفسار کیا کہ متاثرہ جوڑے کی ویڈیو کون بناتا تھا؟ جس پر عثمان مرزا نے عدالت کو بتایا کہ اس جوڑے کی برہنہ ویڈیو ریحان نامی لڑکا بناتا تھا جبکہ عمر بلال دروازے پر پہرا دیتا تھا۔یاد رہے کہ عثمان مرزا تش دد کیس میںپولیس خود اس مقدمے کی مدعی بنی ہے اور ملزم عثمان مرزا کیلئے عمر قید یا پھان سی کی سخت سزائوں کیلئے کوشا ںہےتاکہ یہ واقعہ ایک عبرتناک مثال بن سکے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.